در کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر
Ejaz Gulدر کھول کے دیکھوں ذرا ادراک سے باہر
یہ شور سا کیسا ہے مری خاک سے باہر
روداد گزشتہ تو سنی کوزہ گری کی
فردا کا بھی کر ذکر جو ہے چاک سے باہر
خوش آیا عجب عشق کو یہ جامۂ زیبا
نکلا نہیں پھر ہجر کی پوشاک سے باہر
چاہا تھا مفر دل نے مگر زلف گرہ گیر
پیچاک بناتی رہی پیچاک سے باہر
آتا نہیں کچھ یاد کہ اے ساعت نسیاں
کیا رکھا ترے طاق پہ کیا طاق سے باہر
سنتا ہوں کہیں دور سے نقارا صبا کا
اتری ہے بہار اب کے بھی خاشاک سے باہر
کچھ دیر ٹھہر اور ذرا دیکھ تماشا
ناپید ہیں یہ رونقیں اس خاک سے باہر
موجود خلا میں ہیں اگر اور زمینیں
افلاک بھی ہوں گے کہیں افلاک سے باہر