نہیں کھلتا کہ آخر یہ طلسماتی تماشا سا

Ejaz Gul

نہیں کھلتا کہ آخر یہ طلسماتی تماشا سا

زمیں کے اس طرف اور آسماں کے اس طرف کیا ہے