عکس ابھرا نہ تھا آئینۂ دل داری کا
Ejaz Gulعکس ابھرا نہ تھا آئینۂ دل داری کا
ہجر نے کھینچ دیا دائرہ زنگاری کا
ناز کرتا تھا طوالت پہ کہ وقت رخصت
بھید سائے پہ کھلا شام کی عیاری کا
جس قدر خرچ کیے سانس ہوئی ارزانی
نرخ گرتا گیا رسم و رہ بازاری کا
رات نے خواب سے وابستہ رفاقت کے عوض
راستہ بند رکھا دن کی نموداری کا
ایسا ویران ہوا ہے کہ خزاں روتی ہے
کل بہت شور تھا جس باغ میں گل کاری کا
بے سبب جمع تو کرتا نہیں تیر و ترکش
کچھ ہدف ہوگا زمانے کی ستم گاری کا
پا بہ زنجیر کیا تھا مجھے آسانی نے
مرحلہ ہو نہ سکا طے کبھی دشواری کا
مطمئن دل ہے عجب بھیڑ سے غم خواروں کی
سلسلہ طول پکڑ لے نہ یہ بیماری کا