یوم جمہور تیرے آنے پر
Charkh Chiniotiیوم جمہور تیرے آنے پر
ناچ اٹھے ہیں مسرتوں کے پیام
ان اجالوں میں ظلمتیں تو نہیں
سوچتے ہیں مرے وطن کے عوام
جگمگاتا ہے وقت کا چہرہ
بے بسوں پر جہان ہنستا ہے
اپنے رخ پر نہیں ہے موجۂ نور
جھونپڑی کس طرح ہو رشک محل
جام جمہوریت تو پیتے ہیں
حسرتیں دم جو توڑ دیں گھٹ کر
لیکن اس میں نہیں ہے کیف و سرور
زندگی کیوں نہ ہو شکار اجل
اپنے حسرت بھرے مقدر کا
اس طرح ہم مذاق اڑاتے ہیں
خود ہی روتے ہیں وقت کا رونا
اور پھر خود ہی مسکراتے ہیں