میں اک اک آشنا سے آشنا ہوں

Charkh Chinioti

میں اک اک آشنا سے آشنا ہوں

خلوص ان میں ہے کتنا جانتا ہوں

تری بات آئی تھی لب پر ذرا سی

زمانے بھر کی باتیں سن رہا ہوں

یہ کوئی جانی پہچانی جگہ ہے

اچانک چلتے چلتے رک گیا ہوں

تماشا ہے یہ میری بے خودی کا

میں اپنے آپ میں گم ہو گیا ہوں

مری آنکھیں ہیں گویا ان کی آنکھیں

جدھر وہ دیکھتے ہوں دیکھتا ہوں

ترے خوابوں کی دنیا سامنے ہے

میں جھوٹی نیند شاید سو رہا ہوں

ترے کوچے میں میلہ لگ رہا ہے

میں اک ویران رستے پر کھڑا ہوں

یہ مل کر پھر کبھی ملتی نہیں ہیں

تری نظروں کو میں پہچانتا ہوں

ستم ہو یا کرم اے چرخؔ کچھ ہو

محبت کا میں صدقہ بن گیا ہوں