کسے خیال تھا ایسی بھی ساعتیں ہوں گی

Ejaz Gul

کسے خیال تھا ایسی بھی ساعتیں ہوں گی

کہ میرے نام سے بھی تجھ کو وحشتیں ہوں گی

سزائے مرگ کی صورت وصال گزرا تھا

بچھڑ گئے ہیں تو کیا کیا قیامتیں ہوں گی

جدائیوں میں زمانے نے کیا سلوک کیا

کبھی دوبارہ ملے تو حکایتیں ہوں گی

خوشا کہ اپنی وفا فاصلوں کی نذر ہوئی

ہمارے بعد زمیں پر رفاقتیں ہوں گی

اجڑ گیا ہوں مگر حوصلے سلامت ہیں

کہ ایک دن تجھے شاید ندامتیں ہوں گی