کس نے کھینچی ہیں لکیریں مرے دروازے پر

Ejaz Gul

کس نے کھینچی ہیں لکیریں مرے دروازے پر

کون ہے جو کہ دبے پاؤں چلا آیا ہے

میرے بے رنگ ہیولے کا تعاقب کرتا

میں تو محتاط تھا ایسا کہیں آتے جاتے

اپنے سائے کو بھی پاتال میں چھوڑ آتا تھا

اپنا سامان اٹھاتا تو شب نصف پہر

دست ہشیار مٹاتا مرے قدموں کا سراغ

جسم ہر سانس کی آواز مقفل رکھتا

خاک ہی خاک کی خوشبو کا تدارک کرتی

جانتا تھا نہیں محفوظ ٹھکانہ میرا

لوگ موجود ہیں جو مجھ پہ نظر رکھتے ہیں

دور نزدیک نہاں خانوں کے اندر بیٹھے

ایک حرکت ہو تو سو عکس بنا لیتے ہیں

ان کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے زر و مال مرا

طرز تعمیر مری منبر و محراب مرے

ان کے اہداف ہیں دیوار و در و باب مرے

اور اک گوہر نایاب کہ تہہ خانے میں

ہوس دل کو ہے اسباب پریشانی کا

میری دیوانگی و وحشت و حیرانی پر

مجھ پہ مامور کہن سال سگان خفتہ

کل کسی ساعت کمزور کی تاریکی میں

اس کمیں گاہ میں سوراخ سے در آئے تھے

دور دالان کے کونے میں کھڑے ہنستے ہیں