کب غریبوں کو اجالوں کی خبر ہوتی ہے

Charkh Chinioti

کب غریبوں کو اجالوں کی خبر ہوتی ہے

زندگی ان کی اندھیروں میں بسر ہوتی ہے

حسن کو چھوتی ہیں جب صبح کی زریں کرنیں

فطرتاً صبح وہ رنگین سحر ہوتی ہے

زندگی جن کی ترے عشق میں ہوتی ہے بسر

انہیں دنیا کی نہ عقبیٰ کی خبر ہوتی ہے

کبھی ناسازیٔ ماحول کو خاطر میں نہ لا

رات کے پردے میں ملبوس سحر ہوتی ہے

غم و عشرت کا مرقع ہے یہ دنیا اے چرخؔ

کبھی کانٹوں کبھی پھولوں پہ بسر ہوتی ہے