اسی جنت جہنم میں مروں گا
Ejaz Gulاسی جنت جہنم میں مروں گا
گئے موسم کو آوازیں نہ دوں گا
نئے جسموں سے مقتل جاگتے ہیں
نئے لوگوں کے رستے پر چلوں گا
مری آنکھیں سلامت ہیں تو پھر میں
پرائے خواب لے کر کیا کروں گا
لہو کی سرخیاں میرے علم ہیں
خزاں کے زرد لشکر سے لڑوں گا
کسی خطے میں قتل روشنی ہو
میں اپنے شہر پر نوحہ کہوں گا
اور اس پر جو ستم ٹوٹے گا اس کو
تمہارے نام لکھوں گا سہوں گا