گزرتے وقت کے ویراں جزیروں کی سزا پیشانیوں پر ثبت ہے

Ejaz Gul

گزرتے وقت کے ویراں جزیروں کی سزا پیشانیوں پر ثبت ہے

آزردگی کے کیل جسموں میں گڑے ہیں

بد نصیبی گردنوں کا طوق ہے

اور محنتوں کے ہات خالی ہیں

ہوا کے ساتھ گندم کی مہک شہروں میں اڑتی ہے

ذخیرہ گھر مقفل ہیں

مشقت کا بدل کڑوے کسیلے موسموں کا ذائقہ ہے

ہم پرانی جھولیاں پھیلائے خواہش کے اندھیرے راستوں پر

الٹے لٹکے چیختے ہیں

اور خوش فہمی کی مٹی پر لکیریں کھینچتے ہیں

آسماں کی سمت تکتے ہیں

کہ شاید رات دن کے درمیانی فاصلوں کے ختم ہونے کی بشارت ہو

دکھوں کے کاغذوں پہ سکھ عبارت ہو