قرار کھو کے چلے بے قرار ہو کے چلے
Charkh Chiniotiقرار کھو کے چلے بے قرار ہو کے چلے
ادا ادا پہ تری ہم نثار ہو کے چلے
رہ وفا میں رقابت کے موڑ بھی ہیں بہت
یہ دل سے کہہ دو ذرا ہوشیار ہو کے چلے
کسی کے کہنے پہ طوفاں میں ڈال دی کشتی
خدا کرے کہ ہوا سازگار ہو کے چلے
ہمیں تو ناز ہے اپنے حسیں گناہوں پر
وہ لوگ اور تھے جو شرمسار ہو کے چلے
تمہاری عنبریں زلفوں کو چھو کے آئی ہے
ہوا کی موج نہ کیوں مشک بار ہو کے چلے
وہ جیتے جی تو نہ آئے مزاج پرسی کو
جنازہ دیکھا تو ساتھ اشک بار ہو کے چلے
نظر نے مل کے نظر سے ملا دیا ہم کو
یہ ربط باہمی اب استوار ہو کے چلے
وہ عرض وصل پہ خاموش ہو کے بیٹھ گئے
نہ آر ہو کے چلے وہ نہ پار ہو کے چلے
ازل سے چرخؔ طبیعت شگفتہ ہے اپنی
جو ملنے آئے وہ باغ و بہار ہو کے چلے