جو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہے
Ejaz Gulجو قصہ گو نے سنایا وہی سنا گیا ہے
اگر تھا اس سے سوا تو نہیں کہا گیا ہے
مسافرت کا ہنر ہے نہ واپسی کی خبر
سو چل رہا ہوں جدھر بھی یہ راستا گیا ہے
اماں کو نیل میسر نہ میں کوئی موسیٰ
مجھے سپرد فراعین کر دیا گیا ہے
سبب نہیں تھا زمیں پر اتارنے کا مجھے
سبب بغیر ہی واپس اٹھا لیا گیا ہے
یہ منتہا ہے مری نارسائی کا شاید
جو دور حد نظر سے پرے خلا گیا ہے
مہک اٹھے ہیں مرے باغ کے خس و خاشاک
کوئی ٹہلتا ہوا صورت صبا گیا ہے