گلیوں میں بھٹکنا رہ آلام میں رہنا
Ejaz Gulگلیوں میں بھٹکنا رہ آلام میں رہنا
یاں سب کو ہے ناکامیٔ یک گام میں رہنا
پہلے تو بکھر جانا گزر گاہوں کے ہم راہ
پھر حسرت دیوار و در و بام میں رہنا
باغات میں پھرنا خس و خاشاک پہن کر
ہر سلسلۂ سبز کے انجام میں رہنا
ہر سانس میں گھلنا تری دہلیز کی خوشبو
ہر آنکھ کا دوری کے سیہ دام میں رہنا
آواز نہ آنا کسی آباد مکاں سے
ہر ہاتھ کا یاں دستک ناکام میں رہنا
کچھ دیر میں کھل جائے گا بستی کا نصیبہ
کچھ دیر ہے اور سختیٔ ایام میں رہنا
اعجازؔ بہت دن سے ہے شہرت کا بلاوا
تم ہو کہ وہی قریۂ گم نام میں رہنا