گنگناتی ہوئی آواز کہاں سے لاؤں
Charkh Chiniotiگنگناتی ہوئی آواز کہاں سے لاؤں
تیری آواز کا انداز کہاں سے لاؤں
تیرے الطاف سے رقصاں ہیں لبوں پر خوشیاں
غم میں ڈوبی ہوئی آواز کہاں سے لاؤں
حال دل پھول سے چہروں کو سنانے کے لئے
میں لب زمزمہ پرواز کہاں سے لاؤں
مجھ سے ہنس ہنس کے تری مشق ستم ہوتی ہے
تجھ سا مونس بت طناز کہاں سے لاؤں
شومیٔ بخت ہے یہ چرخؔ کہ وہ کہتے ہیں
میں مسیحائی کا انداز کہاں سے لاؤں