اوم کا جھنڈا فضاؤں میں اڑاتا آیا

Charkh Chinioti

اوم کا جھنڈا فضاؤں میں اڑاتا آیا

اسے تہذیب کا سرتاج بناتا آیا

جس سے ہر قوم کی تقدیر بنا کرتی ہے

ہمیں اخلاق کا وہ درس سکھاتا آیا

آتما صاف ہوا کرتی ہے جن جذبوں سے

مشعل‌ راہ انہی جذبوں کو بناتا آیا

ہم دیانند کو کہتے ہیں پیمبر لیکن

خود کو وہ قوم کا سیوک ہی بتاتا آیا

آریہ ورت کا روشن تریں مینار تھا وہ

روشنی سارے زمانے کو دکھاتا آیا

قوم کو شدھی کی تعلیم کا عنواں دے کر

قوم کو غیر کے پنجے سے چھڑاتا آیا

بھائی چارے سے محبت سے رواداری سے

قوم کو جینے کا انداز سکھاتا آیا

اپنی تہذیب جسے لوگ بھلا بیٹھے تھے

وید منتر سے وہی یاد دلاتا آیا

شاستر اور وید کے منتر کا اچارن کر کے

عہد ماضی کا اک آئینہ دکھاتا آیا

گھور اندھ کار تھا اگیان کا جاری ہر سو

گیان اگیان کے انتر کو مٹاتا آیا

کفر و باطل کے اڑے ہاتھوں کے طوطے اے چرخؔ

حق پرستی کا وہ یوں ڈنکا بجاتا آیا