Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. زبان حال سے ہم شکوۂ بیداد کرتے ہیںدہان زخم قاتل دم بدم فریاد کرتے ہیںامداد امام اثر
  2. سولی چڑھے جو یار کے قد پر فدا نہ ہوپھانسی چڑھے جو قیدی زلف رسا نہ ہوامداد امام اثر
  3. شراب خون جگر ہے ہم کو شراب ہم لے کے کیا کریں گےگزک کی جا ہے دل برشتہ کباب ہم لے کے کیا کریں گےامداد امام اثر
  4. شیخ کے حال پر تأسف ہےشکل روزی کی اک تصوف ہےامداد امام اثر
  5. صبح دم روتی جو تیری بزم سے جاتی ہے شمعصاف میرے سوز غم کا رنگ دکھلاتی ہے شمعامداد امام اثر
  6. غم نہیں مجھ کو جو وقت امتحاں مارا گیاخوش ہوں تیرے ہاتھ سے اے جان جاں مارا گیاامداد امام اثر
  7. قید تن سے روح ہے ناشاد کیاچند روزہ عمر کی میعاد کیاامداد امام اثر
  8. کب غیر ہوا محو تری جلوہ گری کاتو پوچھ مرے دل سے مزہ بے خبری کاامداد امام اثر
  9. کسی کا دل کو رہا انتظار ساری راتفلک کو دیکھا کئے بار بار ساری راتامداد امام اثر
  10. محفل میں اس پہ رات جو تو مہرباں نہ تھاایسا سبک تھا غیر کہ کچھ بھی گراں نہ تھاامداد امام اثر
  11. میرے سر میں جو رات چکر تھااس کے زانو پہ غیر کا سر تھاامداد امام اثر
  12. یوں ہی الجھی رہنے دو کیوں آفت سر پر لاتے ہودل کی الجھن بڑھتی ہے جب زلفوں کو سلجھاتے ہوامداد امام اثر
  13. جب خدا کو جہاں بسانا تھاتجھ کو ایسا نہیں بنانا تھاامداد امام اثر
  14. سمجھایا بہت دل کو سمجھانے کو کیا کہیےآتے ہی چلے جانا کیا آنا ہے کیا جاناامداد امام اثر
  15. کیوں دیکھیے نہ حسن خداداد کی طرفلازم نظر ہے گلشن ایجاد کی طرفامداد امام اثر
  16. آنکھوں پر آہ یاس کا پردہ سا پڑ گیادنیا اجڑ گئی کہ مرا دل اجڑ گیابیخود موہانی
  17. اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیںیعنی مجھے امید کا بھی آسرا نہیںبیخود موہانی
  18. ابھی چمن ابھی گل بس یہی سماں دیکھاقفس کو بھی مری آنکھوں نے آشیاں دیکھابیخود موہانی
  19. اپنا جہاں میں رہنا ہے یادگار رہنامشکل تھا اپنے گھر میں بیگانہ وار رہنابیخود موہانی
  20. اجل نے کر دیا خاموش تو کیا ہے زباں ہوں میںکہ ہستی کا فسانہ ہوں عدم کی داستاں ہوں میںبیخود موہانی
  21. ازل کیا ابتدا حسن و محبت کے ترانے کیابد کیا صرف اک بدلی ہوئی سرخی فسانے کیبیخود موہانی
  22. امتحان و صبر کی حد کیوں پڑے تاخیر میںجو نہ لکھوائے کوئی لکھ دے مری تقدیر میںبیخود موہانی
  23. اہل دل اہل نظر شام و سحر رویا کیےدرد کے پتلے تھے آخر عمر بھر رویا کیےبیخود موہانی
  24. پابند حکم گریۂ بے اختیار ہوںمیں سیل آبشار ہوں ابر بہار ہوںبیخود موہانی
  25. پروانہ سوز شمع سے یوں باخبر نہ ہودل سے لگی نہ ہو تو زباں میں اثر نہ ہوبیخود موہانی
  26. تا حشر تو فراق کا احساں ہے اور ہمکیا بعد حشر بھی شب ہجراں ہے اور ہمبیخود موہانی
  27. جب ناز عشق حسن کے قابل نہیں رہاپھر وہ کچھ اور ہی ہے مرا دل نہیں رہابیخود موہانی
  28. جگر کو دیکھ کے زخم جگر کو دیکھتے ہیںمرے عزیز مرے چارہ گر کو دیکھتے ہیںبیخود موہانی
  29. جوش وحشت میں نظر پہنچی نہ اپنے دل کے پاساٹھے آخر تک بگولے آہ اس محمل کے پاسبیخود موہانی
  30. صبر وعدے پہ نہ تھا کام تمنائی کاحشر ہے وصل کا دن یا مری رسوائی کابیخود موہانی
  31. عالم کو اس نے نقش کف پا بنا دیایعنی بنا دیا کبھی گاہے مٹا دیابیخود موہانی
  32. کہتے ہیں تیری لاش پہ آیا نہ جائے گاتو ان سے خاک میں بھی ملایا نہ جائے گابیخود موہانی
  33. کہے یہ کون مکاں اپنا لا مکاں اپناازل کے بعد سے ملتا ہے کچھ نشاں اپنابیخود موہانی
  34. میں نقش ما و من ہوتا کہ نقش ماسوا ہوتاجو پہلے سے خبر ہوتی کہ کیا ہوتا تو کیا ہوتابیخود موہانی
  35. نظیر جس کی مل سکے وہ اپنا ماجرا نہ تھالکھا نہ تھا پڑھا نہ تھا سنا نہ تھا ہوا نہ تھابیخود موہانی
  36. نہ بھولے گا خیال و رنگ رخ کا نامہ بر ہوناحدیث شوق سے حرف و زباں کا بے خبر ہونابیخود موہانی
  37. وہی عاشق ہے قاتل کا نہ جو شاکی وہاں ہوگاجسے دار جزا سمجھے ہیں دار امتحاں ہوگابیخود موہانی
  38. ہنگامہ خیز دعوئ منصور ہو گیالب ہم نوائے خاطر مغرور ہو گیابیخود موہانی
  39. یوں بھی دیکھا نہ کبھی درد کا درماں ہوناہائے وہ نشتر مژگاں کا رگ جاں ہونابیخود موہانی
  40. اف انتہائے شوق میں اب کیا کرے کوئیکہتے ہیں پہلے اپنی تمنا کرے کوئیبیخود موہانی
  41. کیوں اے خیال یار تجھے کیا خبر نہیںمیں کیوں بتاؤں درد کدھر ہے کدھر نہیںبیخود موہانی
  42. بات کہنے کے لئے بات بنائی نہ گئیہم سے بارات فریبوں کی سجائی نہ گئیCharkh Chinioti
  43. بزم جاناں میں محبت کا اثر دیکھیں گےکس سے ملتی ہے نظر ان کی نظر دیکھیں گےCharkh Chinioti
  44. بے خودی میں ہے نہ وہ پی کر سنبھل جانے میں ہےلطف پائے یار پر جو لغزشیں کھانے میں ہےCharkh Chinioti
  45. تنہائی میں آج ان سے ملاقات ہوئی ہےجس بات کی خواہش تھی وہی بات ہوئی ہےCharkh Chinioti
  46. تیری زلفوں نے کیا کس پہ کرم رات گئےکس کے ہاتھوں سے نکالے گئے خم رات گئےCharkh Chinioti
  47. جب سر بام وہ خورشید جمال آتا ہےذرے ذرے پہ قیامت کا جلال آتا ہےCharkh Chinioti
  48. جلوۂ حسن سے ہے صورت اوقات نئیدن نیا صبح نئی شام نئی رات نئیCharkh Chinioti
  49. جلوۂ ہوش ربا کوئی دکھایا جائےعالم شوق کو دیوانہ بنایا جائےCharkh Chinioti
  50. جو آنسوؤں کو نہ چمکائے وہ خوشی کیا ہےنہ آئے موت پہ غالب تو زندگی کیا ہےCharkh Chinioti