Poetry
Poet
Meter
- زبان حال سے ہم شکوۂ بیداد کرتے ہیںدہان زخم قاتل دم بدم فریاد کرتے ہیںامداد امام اثر
- سولی چڑھے جو یار کے قد پر فدا نہ ہوپھانسی چڑھے جو قیدی زلف رسا نہ ہوامداد امام اثر
- شراب خون جگر ہے ہم کو شراب ہم لے کے کیا کریں گےگزک کی جا ہے دل برشتہ کباب ہم لے کے کیا کریں گےامداد امام اثر
- شیخ کے حال پر تأسف ہےشکل روزی کی اک تصوف ہےامداد امام اثر
- صبح دم روتی جو تیری بزم سے جاتی ہے شمعصاف میرے سوز غم کا رنگ دکھلاتی ہے شمعامداد امام اثر
- غم نہیں مجھ کو جو وقت امتحاں مارا گیاخوش ہوں تیرے ہاتھ سے اے جان جاں مارا گیاامداد امام اثر
- قید تن سے روح ہے ناشاد کیاچند روزہ عمر کی میعاد کیاامداد امام اثر
- کب غیر ہوا محو تری جلوہ گری کاتو پوچھ مرے دل سے مزہ بے خبری کاامداد امام اثر
- کسی کا دل کو رہا انتظار ساری راتفلک کو دیکھا کئے بار بار ساری راتامداد امام اثر
- محفل میں اس پہ رات جو تو مہرباں نہ تھاایسا سبک تھا غیر کہ کچھ بھی گراں نہ تھاامداد امام اثر
- میرے سر میں جو رات چکر تھااس کے زانو پہ غیر کا سر تھاامداد امام اثر
- یوں ہی الجھی رہنے دو کیوں آفت سر پر لاتے ہودل کی الجھن بڑھتی ہے جب زلفوں کو سلجھاتے ہوامداد امام اثر
- جب خدا کو جہاں بسانا تھاتجھ کو ایسا نہیں بنانا تھاامداد امام اثر
- سمجھایا بہت دل کو سمجھانے کو کیا کہیےآتے ہی چلے جانا کیا آنا ہے کیا جاناامداد امام اثر
- کیوں دیکھیے نہ حسن خداداد کی طرفلازم نظر ہے گلشن ایجاد کی طرفامداد امام اثر
- آنکھوں پر آہ یاس کا پردہ سا پڑ گیادنیا اجڑ گئی کہ مرا دل اجڑ گیابیخود موہانی
- اب تو ہجوم یاس کی کچھ انتہا نہیںیعنی مجھے امید کا بھی آسرا نہیںبیخود موہانی
- ابھی چمن ابھی گل بس یہی سماں دیکھاقفس کو بھی مری آنکھوں نے آشیاں دیکھابیخود موہانی
- اپنا جہاں میں رہنا ہے یادگار رہنامشکل تھا اپنے گھر میں بیگانہ وار رہنابیخود موہانی
- اجل نے کر دیا خاموش تو کیا ہے زباں ہوں میںکہ ہستی کا فسانہ ہوں عدم کی داستاں ہوں میںبیخود موہانی
- ازل کیا ابتدا حسن و محبت کے ترانے کیابد کیا صرف اک بدلی ہوئی سرخی فسانے کیبیخود موہانی
- امتحان و صبر کی حد کیوں پڑے تاخیر میںجو نہ لکھوائے کوئی لکھ دے مری تقدیر میںبیخود موہانی
- اہل دل اہل نظر شام و سحر رویا کیےدرد کے پتلے تھے آخر عمر بھر رویا کیےبیخود موہانی
- پابند حکم گریۂ بے اختیار ہوںمیں سیل آبشار ہوں ابر بہار ہوںبیخود موہانی
- پروانہ سوز شمع سے یوں باخبر نہ ہودل سے لگی نہ ہو تو زباں میں اثر نہ ہوبیخود موہانی
- تا حشر تو فراق کا احساں ہے اور ہمکیا بعد حشر بھی شب ہجراں ہے اور ہمبیخود موہانی
- جب ناز عشق حسن کے قابل نہیں رہاپھر وہ کچھ اور ہی ہے مرا دل نہیں رہابیخود موہانی
- جگر کو دیکھ کے زخم جگر کو دیکھتے ہیںمرے عزیز مرے چارہ گر کو دیکھتے ہیںبیخود موہانی
- جوش وحشت میں نظر پہنچی نہ اپنے دل کے پاساٹھے آخر تک بگولے آہ اس محمل کے پاسبیخود موہانی
- صبر وعدے پہ نہ تھا کام تمنائی کاحشر ہے وصل کا دن یا مری رسوائی کابیخود موہانی
- عالم کو اس نے نقش کف پا بنا دیایعنی بنا دیا کبھی گاہے مٹا دیابیخود موہانی
- کہتے ہیں تیری لاش پہ آیا نہ جائے گاتو ان سے خاک میں بھی ملایا نہ جائے گابیخود موہانی
- کہے یہ کون مکاں اپنا لا مکاں اپناازل کے بعد سے ملتا ہے کچھ نشاں اپنابیخود موہانی
- میں نقش ما و من ہوتا کہ نقش ماسوا ہوتاجو پہلے سے خبر ہوتی کہ کیا ہوتا تو کیا ہوتابیخود موہانی
- نظیر جس کی مل سکے وہ اپنا ماجرا نہ تھالکھا نہ تھا پڑھا نہ تھا سنا نہ تھا ہوا نہ تھابیخود موہانی
- نہ بھولے گا خیال و رنگ رخ کا نامہ بر ہوناحدیث شوق سے حرف و زباں کا بے خبر ہونابیخود موہانی
- وہی عاشق ہے قاتل کا نہ جو شاکی وہاں ہوگاجسے دار جزا سمجھے ہیں دار امتحاں ہوگابیخود موہانی
- ہنگامہ خیز دعوئ منصور ہو گیالب ہم نوائے خاطر مغرور ہو گیابیخود موہانی
- یوں بھی دیکھا نہ کبھی درد کا درماں ہوناہائے وہ نشتر مژگاں کا رگ جاں ہونابیخود موہانی
- اف انتہائے شوق میں اب کیا کرے کوئیکہتے ہیں پہلے اپنی تمنا کرے کوئیبیخود موہانی
- کیوں اے خیال یار تجھے کیا خبر نہیںمیں کیوں بتاؤں درد کدھر ہے کدھر نہیںبیخود موہانی
- بات کہنے کے لئے بات بنائی نہ گئیہم سے بارات فریبوں کی سجائی نہ گئیCharkh Chinioti
- بزم جاناں میں محبت کا اثر دیکھیں گےکس سے ملتی ہے نظر ان کی نظر دیکھیں گےCharkh Chinioti
- بے خودی میں ہے نہ وہ پی کر سنبھل جانے میں ہےلطف پائے یار پر جو لغزشیں کھانے میں ہےCharkh Chinioti
- تنہائی میں آج ان سے ملاقات ہوئی ہےجس بات کی خواہش تھی وہی بات ہوئی ہےCharkh Chinioti
- تیری زلفوں نے کیا کس پہ کرم رات گئےکس کے ہاتھوں سے نکالے گئے خم رات گئےCharkh Chinioti
- جب سر بام وہ خورشید جمال آتا ہےذرے ذرے پہ قیامت کا جلال آتا ہےCharkh Chinioti
- جلوۂ حسن سے ہے صورت اوقات نئیدن نیا صبح نئی شام نئی رات نئیCharkh Chinioti
- جلوۂ ہوش ربا کوئی دکھایا جائےعالم شوق کو دیوانہ بنایا جائےCharkh Chinioti
- جو آنسوؤں کو نہ چمکائے وہ خوشی کیا ہےنہ آئے موت پہ غالب تو زندگی کیا ہےCharkh Chinioti