رہنے دو

Faisal Malik (b. 1982)

رہنے دو

ابھی بیچ میں

دیوار اجنبیت

کہ غنیمت ہے

غنیمت ہے کہ جذبوں کا صحرا

یوں ہی آباد رہے

کہیں کسی طور

کوئی نخلستان آ نہ پائے

غنیمت ہے کہ

گفتگو پہروں رہے مگر

نظر کی تشنگی

اک ہراس بن کر

چھائی رہے

غنیمت ہے کہ

ہم بہت پاس آ کر بھی

اجنبی رہیں سدا

نہ میں جانوں

نہ تم جانو

نہ بن پائے

کوئی لمحہ

لمحہ پشیمانی کا

تنہائی یہ

اور اس کی رنگین گھڑیاں

غنیمت ہیں

دیوار اجنبیت

اور اس پہ بیٹھی ہوئی

افسردہ محبت

غنیمت ہے