استقبال نور کیا رنگ برنگ سلیقوں سے

Yasir Iqbal (b. 1983)

استقبال نور کیا رنگ برنگ سلیقوں سے

ہم نے برکھا دیوی کو دیکھا سات طریقوں سے

نم آنکھوں کا نیل گگن پل بھر میں گھنگھور ہوا

اب پلو رسوا ہوگا آنسوؤں پر تحقیقوں سے

کھلیانوں کی پیلاہٹ جب چہروں تک پھیل گئی

ٹھنڈے دل بھی الجھ پڑے شہد سمان رفیقوں سے

کاٹھ کی بستی میں ہر سو ہرا ہرا تو دکھتا تھا

کون کہاں تک تازہ ہوا پوچھیں کن صدیقوں سے

پیرہنوں کی لالی سے لال کہاں لہرانا تھا

ہم نے ٹھنڈی آگ چکھی حذر کیا زندیقوں سے

جب جب جامنی ہونٹوں نے اسموں کو الہام کیا

ہم نے کیسۂ بخت بھرا نئی نئی تخلیقوں سے

رت کے شوخ پراندے سے جب دو رنگ اڑا بیٹھی

ہم نے برکھا دیوی کو دیکھا پانچ طریقوں سے