تم رونق حیات تھے جب تم نہیں رہے
Yasir Shah Rashidi (b. 1982)تم رونق حیات تھے جب تم نہیں رہے
ہونٹوں پہ وہ گزشتہ تبسم نہیں رہے
انساں کہاں بچے جو محبت فنا ہوئی
یعنی شراب ختم ہوئی خم نہیں رہے
اچھا ہوا کہ چھوڑ دیا آپ نے ہمیں
اچھا ہوا کہ ہم ابھی گم صم نہیں رہے
ہونا نہ ہونا اپنا برابر ہے دوستو
ہم تم یوں رہ گئے ہیں کہ ہم تم نہیں رہے
یادش بخیر گاؤں کی تاروں بھری وہ رات
اس روشنی کے شہر میں انجم نہیں رہے