آرائش چند پل رہی تھی

Yasir Iqbal (b. 1983)

آرائش چند پل رہی تھی

پوشاک یاد گل رہی تھی

چوکھٹ سے دست آرزو تک

برفیلی آگ جل رہی تھی

تھراتے گوشوارے کی لو

لشکارے سے بہل رہی تھی

تاروں کی راکھ سر پہ اوڑھے

ہجرت گھر سے نکل رہی تھی

ہاتھوں کی ادھ کھلی کہانی

ہونٹوں پر پھول پھل رہی تھی

وہ موسم گیت کا نہیں تھا

ٹہنی زیور بدل رہی تھی

پیڑوں کی راکھ سے پرے تک

جسموں کی جوت جل رہی تھی