بیٹھا ہوں ہار کر اب اٹھانا نہیں مجھے
Faisal Malik (b. 1982)بیٹھا ہوں ہار کر اب اٹھانا نہیں مجھے
کتنا برا ہوں میں یہ بتانا نہیں مجھے
ہو سکتا ہے وہیں سے ہی جڑ جائے میرا خواب
تم بس یہ کرنا آج جگانا نہیں مجھے
محسوس ہو تمہیں بھی ذرا لذت فراق
میں نے کہا بھی تھا کہ ستانا نہیں مجھے
محسوس ہو مجھے بھی ذرا تشنگی کا دکھ
یہ چند روز تم بھی پلانا نہیں مجھے
فیصلؔ تمہاری باتوں میں اب آنا ہی نہیں
تم لاکھ یہ کہو کہ بھلانا نہیں مجھے