Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. جاتے جاتے یہ نشانی دے گیاوہ مری آنکھوں میں پانی دے گیاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  2. رات بھر چاند کی گلیوں میں پھراتی ہے مجھےزندگی کتنے حسیں خواب دکھاتی ہے مجھےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  3. رات کے دشت میں پھیلا ہوا سناٹا ہوںاپنے سائے سے بچھڑنے کی سزا پاتا ہوںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  4. سکوں تھوڑا سا پایا دھوپ کے ٹھنڈے مکانوں میںبہت جلنے لگا تھا جسم برفیلی چٹانوں میںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  5. کوئی منزل نہیں ملتی تو ٹھہر جاتے ہیںاشک آنکھوں میں مسافر کی طرح آتے ہیںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  6. گمشدہ تنہائیوں کی رازداں اچھی تو ہومیں یہاں اچھا نہیں ہوں تم وہاں اچھی تو ہوKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  7. گھٹاؤں کی اداسی پی رہا ہوںمیں اک گہرا سمندر بن گیا ہوںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  8. مجھ سے اب تک یہ گلہ ہے مرے غم خواروں کوکیوں چھوا میں نے تری یاد کے انگاروں کوKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  9. ہم نے جب کوئی بھی دروازہ کھلا پایا ہےکتنی گزری ہوئی باتوں کا خیال آیا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  10. یہ حادثہ بھی ترے شہر میں ہوا ہوگاتمام شہر مجھے ڈھونڈھتا پھرا ہوگاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  11. یہ حادثہ تو ہوا ہی نہیں ہے تیرے بعدہے پر سکون سمندر کچھ اس طرح دل کاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  12. ابھی سے ان کے لیے اتنی بے قرار نہ ہوکیا ہے مجھ کو بہت بے قرار چھیڑا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  13. اے مرے نور نظر لخت جگر جان سکوںنیند آنا تجھے دشوار نہیں ہے سو جاKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  14. بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گیلوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  15. کب تلک خوابوں سے دھوکہ کھاؤ گیکب تلک اسکول کے بچوں سے دل بہلاؤ گیKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  16. کسی کی یاد ستاتی ہے رات دن تم کوکسی کے پیار سے مجبور ہو گئی ہو تمKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  17. کن خیالات میں یوں رہتی ہو کھوئی کھوئیچائے کا پانی پتیلی میں ابل جاتا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  18. کیسی خاموشی ہے ویرانی ہے سناٹا ہےکوئی آہٹ ہے نہ آواز نہ کوئی دھڑکنKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  19. میں نے سوچا تھا کہ اس بار تمہاری باہیںمیری گردن میں بصد شوق حمائل ہوں گیKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  20. ہر ایک شام مجھے یوں خیال آتا ہےکہ جیسے ٹاٹ کا میلا پھٹا ہوا پردہKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  21. خواب شب کی منڈیروں پہ بیٹھے ہوئےگھورتے ہیں مجھےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  22. زندگی کے پیڑ سےایک پتا اور گر کرKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  23. سنا ہے کہ بوڑھی حویلی میں ہر شببھٹکتی ہے اک روح جس کے بدن پرKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
  24. آئنہ دیکھیں نہ ہم عکس ہی اپنا دیکھیںجب بھی دیکھیں تو ہم اپنے کو اکیلا دیکھیںzafar iqbal zafar (b. 1940)
  25. ایک اک پل ترا نایاب بھی ہو سکتا ہےحوصلہ ہو تو ظفر یاب بھی ہو سکتا ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
  26. ایک جنبش میں کٹ بھی سکتے ہیںدھار پر رکھے سب کے چہرے ہیںzafar iqbal zafar (b. 1940)
  27. پائی ہمیشہ ریت بھنور کاٹنے کے بعدتشنہ لبی کا لمبا سفر کاٹنے کے بعدzafar iqbal zafar (b. 1940)
  28. دریا گزر گئے ہیں سمندر گزر گئےپیاسا رہا میں کتنے ہی منظر گزر گئےzafar iqbal zafar (b. 1940)
  29. دل و نگاہ کو ویران کر دیا میں نےشکست خواب کا اعلان کر دیا میں نےzafar iqbal zafar (b. 1940)
  30. رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سےپیاس بجھتی ہے میری صحرا سےzafar iqbal zafar (b. 1940)
  31. زندگی کو شعبدہ سمجھا تھا میںپتھروں کو آئنہ سمجھا تھا میںzafar iqbal zafar (b. 1940)
  32. زندگی کو کر گیا جنگل کوئیلے گیا خوشیوں کا میری پل کوئیzafar iqbal zafar (b. 1940)
  33. سر بریدہ ہوا مقابل ہےسب کی آنکھوں میں خوف شامل ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
  34. سفر کا سلسلہ آخر کہاں تمام کروںکہاں چراغ چلاؤں کہاں قیام کروںzafar iqbal zafar (b. 1940)
  35. صحرا کا سفر تھا تو شجر کیوں نہیں آیامانگی تھیں دعائیں تو اثر کیوں نہیں آیاzafar iqbal zafar (b. 1940)
  36. کنیز وقت کو نیلام کر دیا سب نےیہ وہم کیا ہے بڑا کام کر دیا سب نےzafar iqbal zafar (b. 1940)
  37. لبوں پر پیاس سب کے بے کراں ہےہر اک جانب مگر اندھا کنواں ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
  38. وہ نہیں اس کی مگر جادوگری موجود ہےاک سحر آلود مجھ میں بے خودی موجود ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
  39. ہر آدمی کہاں اوج کمال تک پہنچاعروج حد سے بڑھا تو زوال تک پہنچاzafar iqbal zafar (b. 1940)
  40. پھیلی ہوئی ہے چاندنی احساس میں مرےیہ کون میری ذات کے اندر اتر گیاzafar iqbal zafar (b. 1940)
  41. تہذیب ہی باقی ہے نہ اب شرم و حیا کچھکس درجہ اب انسان یہ بے باک ہوا ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
  42. مری چیخیں فصیلوں سے کبھی باہر نہیں جاتیںشکستہ ہو کے گرنے پر صدا دیتی ہیں دیواریںzafar iqbal zafar (b. 1940)
  43. ہماری زیست میں ایسے بھی لمحے آتے ہیں اکثردراروں کے توسط سے ہوا دیتی ہیں دیواریںzafar iqbal zafar (b. 1940)
  44. افکار کے سانچے میں ڈھلی تازہ غزل ہےیا وقت کے پیچیدہ سوالات کا حل ہےSaba Naqvi (b. 1940)
  45. بے معنی لا حاصل ردی شعروں کا ہے جال ادھرجو چیزیں بیکار ہیں پیارے ان چیزوں کو ڈال ادھرSaba Naqvi (b. 1940)
  46. بے نام ساعتوں کا سفر ختم ہو چلالو امتحان فکر و نظر ختم ہو چلاSaba Naqvi (b. 1940)
  47. پیر مے خانہ پہ مرتے ہیں مریدوں کی طرحجان دیتے ہیں محبت میں شہیدوں کی طرحSaba Naqvi (b. 1940)
  48. تمام عمر ہو نہ پائی وہ نظر اپنیرہ حیات میں بنتی جو ہم سفر اپنیSaba Naqvi (b. 1940)
  49. دل مضطر کو سمجھا لوں بہت ہےمیں خود سے اپنا گھر چھالوں بہت ہےSaba Naqvi (b. 1940)
  50. راہ حیات میں دل ویراں دہائی دےدشمن کو بھی خدا نہ غم آشنائی دےSaba Naqvi (b. 1940)