Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. قلم سے رابطۂ رنگ و آب ٹوٹ گیاکسی مصور فطرت کا خواب ٹوٹ گیاSaba Naqvi (b. 1940)
  2. کسی کا آہنگ کیف زا ہے کسی کا لہجہ گلو گرفتہبقدر عرفان زندگی ہے ہر ایک دل آرزو گرفتہSaba Naqvi (b. 1940)
  3. کھو گئی غیرت دل ذوق طلب باقی ہےکیسے مر جاؤں کہ جینے کا سبب باقی ہےSaba Naqvi (b. 1940)
  4. لب خموش کو ارمان گفتگو ہی سہیجگر میں حوصلۂ عرض آرزو ہی سہیSaba Naqvi (b. 1940)
  5. میکدے کی شرط دور بادہ و ساغر کی قیدایک میری تشنگی اور اس پہ دنیا بھر کی قیدSaba Naqvi (b. 1940)
  6. میں بدلتے موسموں کے رنگ سے بیزار ہوںہر نئی رت سے چمن میں برسر پیکار ہوںSaba Naqvi (b. 1940)
  7. نظر کے سرخ ڈورے دل میں اترےمسافر دامن ساحل میں اترےSaba Naqvi (b. 1940)
  8. نغمہ زن ہے نظر بے آوازکیوں مرے دل اثر بے آوازSaba Naqvi (b. 1940)
  9. نیا شگوفہ اشارۂ یار پر کھلا ہےگلاب اب کے چمن کی دیوار پر کھلا ہےSaba Naqvi (b. 1940)
  10. جس روز دھوپ نکلیاور لوگ اپنے اپنےTabassum Kashmiri (b. 1940)
  11. چھٹی بار جب میں نے دروازہ کھولاتو اک چیخ میرے بدن کے مساموں سے چمٹیTabassum Kashmiri (b. 1940)
  12. رات بھر کتا اس کے پیٹ میں بھونک رہا تھاکیسی کیسی آوازیں تھیںTabassum Kashmiri (b. 1940)
  13. رات کے معدے میں کاری زہر ہے جلتا ہے جس سے تن بدن میرامیں کب سے چیختا ہوں درد سے چلاتا پھرتا ہوںTabassum Kashmiri (b. 1940)
  14. میں نے آشاؤں کی آنکھیںچہرے ہونٹ اور نیلے بازوTabassum Kashmiri (b. 1940)
  15. بارشیں اس کے بدن پرزور سے گرتی رہیںTabassum Kashmiri (b. 1940)
  16. اداسیوں کی رت بھی کیا عجیب ہےکوئی نہ میرے پاس ہےTabassum Kashmiri (b. 1940)
  17. اگر مجھ سے ملنا ہے آؤ ملو تممگر یاد رکھناTabassum Kashmiri (b. 1940)
  18. زوال کے آسمانوں میں لڑکھڑاتےاندھیرے خلاؤں کی دنیاؤں میں معلق ہوتےTabassum Kashmiri (b. 1940)
  19. مجھے لگتا ہےزمین کے کسی گمنام منطقے میںTabassum Kashmiri (b. 1940)
  20. میں نے زمیں کی تپتی رگوں پہ ہاتھ دھرے ہیںمیں نے زمیں کی تپتی رگوں سےTabassum Kashmiri (b. 1940)
  21. نیلے سایوں کی رات تھی وہوہ ساحل شب پہ سو گئی تھیTabassum Kashmiri (b. 1940)
  22. وادی کی سب سے لمبی لڑکی کے جسم کے سب مساموں سےریشم سے زیادہ ملائم اور نرم خموشی میںTabassum Kashmiri (b. 1940)
  23. وہ ایک شب تھی سفید گلابوں والے تالاب کے بالکل نزدیکبادلوں کی پہلی آہٹ پرTabassum Kashmiri (b. 1940)
  24. ہم شوریدہ کڑوے تلخ کسیلے ذائقےرات کی پر شہوت آنکھوں سے ٹپکے تازہ قطرےTabassum Kashmiri (b. 1940)
  25. یہاں اب ایک تارہزرد تارہ بھی نہیں باقیTabassum Kashmiri (b. 1940)
  26. آداب آدابتسلیمات تسلیماتFaiyaz Rifat (1940–2022)
  27. جسم کی حرارتیںہر خلیے میں تیرتی ہوئیFaiyaz Rifat (1940–2022)
  28. جنہیں چاہتے ہو پسند کرتے ہوان کی روحوں کو ٹٹولوFaiyaz Rifat (1940–2022)
  29. جیون مایا ہریالی میںتم جوت جگاتی آئی ہوFaiyaz Rifat (1940–2022)
  30. سبز شاخوں پر نئےسرخ پتےFaiyaz Rifat (1940–2022)
  31. میں نے تمہیںتمہارے کنول جھیل چہرے کوFaiyaz Rifat (1940–2022)
  32. وہ جو اک موڑ ہے پیپل کے گھنے پیڑکے پاسFaiyaz Rifat (1940–2022)
  33. دفتر میںدفتر سے باہرFaiyaz Rifat (1940–2022)
  34. انداز کسی کا ہے صدا اور کسی کیہے چوٹ کوئی اور دوا اور کسی کیJafar Sahni (1941–2018)
  35. ایک معصوم تمنا کی فضا تھی کل تکزندگی ایسی کہاں ہوش ربا تھی کل تکJafar Sahni (1941–2018)
  36. بیٹھا تھا تن کو ڈھانک کے جو گرم شال سےمشکل میں پڑ گیا وہ ستاروں کی چال سےJafar Sahni (1941–2018)
  37. پر شور تلاطم کا مداوا کوئی آہٹسنگین فضا میں تھی دلاسا کوئی آہٹJafar Sahni (1941–2018)
  38. پیچھا ہی نہیں چھوڑتی گھر بار کی خوشبورستے سے عیاں ہے در و دیوار کی خوشبوJafar Sahni (1941–2018)
  39. تماشا اک انوکھا سا دکھاناتردد میں کھلا چہرہ دکھاناJafar Sahni (1941–2018)
  40. جبیں پہ شہر کی لکھ کر فضا اداسی کیبہت ہے خوش کوئی دے کر دعا اداسی کیJafar Sahni (1941–2018)
  41. چاندنی شب بھر ٹہلتی چھت پہ تنہا رہ گئیپیار کی ہر یاد رنگیں بے سہارا ہو گئیJafar Sahni (1941–2018)
  42. خاک میں لپٹی کہانی اور ہےرنگ لیکن آسمانی اور ہےJafar Sahni (1941–2018)
  43. خاموش نگاہوں سے وہ یلغار کا ہوناملتا ہے نفی میں کسی اقرار کا ہوناJafar Sahni (1941–2018)
  44. دل میں بیٹھا تھا ایک ڈر شایدآج بھی ہے وہ ہم سفر شایدJafar Sahni (1941–2018)
  45. دل میں خیال عشق تھا مہمان کی طرحارماں سجا تھا میرؔ کے دیوان کی طرحJafar Sahni (1941–2018)
  46. زرد پتا جو ڈال سے نکلاحسرتوں کے وبال سے نکلاJafar Sahni (1941–2018)
  47. زوال عمر کے پردے میں ہے حجاب کہاںوفور شوق سے لبریز اب گلاب کہاںJafar Sahni (1941–2018)
  48. شر کی باتوں میں تمازت کا نشاں ہو کہ نہ ہوآگ لگتی ہے تو سینے میں دھواں ہو کہ نہ ہوJafar Sahni (1941–2018)
  49. طشت میں دھوپ کے ہر سمت زمیں ہے روشنجگمگاتا ہے مکاں اور مکیں ہے روشنJafar Sahni (1941–2018)
  50. کبھی نازک کبھی بے حد کڑا ہےوہ تغلقؔ سامنے بن کر کھڑا ہےJafar Sahni (1941–2018)