Poetry
Poet
Meter
- قلم سے رابطۂ رنگ و آب ٹوٹ گیاکسی مصور فطرت کا خواب ٹوٹ گیاSaba Naqvi (b. 1940)
- کسی کا آہنگ کیف زا ہے کسی کا لہجہ گلو گرفتہبقدر عرفان زندگی ہے ہر ایک دل آرزو گرفتہSaba Naqvi (b. 1940)
- کھو گئی غیرت دل ذوق طلب باقی ہےکیسے مر جاؤں کہ جینے کا سبب باقی ہےSaba Naqvi (b. 1940)
- لب خموش کو ارمان گفتگو ہی سہیجگر میں حوصلۂ عرض آرزو ہی سہیSaba Naqvi (b. 1940)
- میکدے کی شرط دور بادہ و ساغر کی قیدایک میری تشنگی اور اس پہ دنیا بھر کی قیدSaba Naqvi (b. 1940)
- میں بدلتے موسموں کے رنگ سے بیزار ہوںہر نئی رت سے چمن میں برسر پیکار ہوںSaba Naqvi (b. 1940)
- نظر کے سرخ ڈورے دل میں اترےمسافر دامن ساحل میں اترےSaba Naqvi (b. 1940)
- نغمہ زن ہے نظر بے آوازکیوں مرے دل اثر بے آوازSaba Naqvi (b. 1940)
- نیا شگوفہ اشارۂ یار پر کھلا ہےگلاب اب کے چمن کی دیوار پر کھلا ہےSaba Naqvi (b. 1940)
- جس روز دھوپ نکلیاور لوگ اپنے اپنےTabassum Kashmiri (b. 1940)
- چھٹی بار جب میں نے دروازہ کھولاتو اک چیخ میرے بدن کے مساموں سے چمٹیTabassum Kashmiri (b. 1940)
- رات بھر کتا اس کے پیٹ میں بھونک رہا تھاکیسی کیسی آوازیں تھیںTabassum Kashmiri (b. 1940)
- رات کے معدے میں کاری زہر ہے جلتا ہے جس سے تن بدن میرامیں کب سے چیختا ہوں درد سے چلاتا پھرتا ہوںTabassum Kashmiri (b. 1940)
- میں نے آشاؤں کی آنکھیںچہرے ہونٹ اور نیلے بازوTabassum Kashmiri (b. 1940)
- بارشیں اس کے بدن پرزور سے گرتی رہیںTabassum Kashmiri (b. 1940)
- اداسیوں کی رت بھی کیا عجیب ہےکوئی نہ میرے پاس ہےTabassum Kashmiri (b. 1940)
- اگر مجھ سے ملنا ہے آؤ ملو تممگر یاد رکھناTabassum Kashmiri (b. 1940)
- زوال کے آسمانوں میں لڑکھڑاتےاندھیرے خلاؤں کی دنیاؤں میں معلق ہوتےTabassum Kashmiri (b. 1940)
- مجھے لگتا ہےزمین کے کسی گمنام منطقے میںTabassum Kashmiri (b. 1940)
- میں نے زمیں کی تپتی رگوں پہ ہاتھ دھرے ہیںمیں نے زمیں کی تپتی رگوں سےTabassum Kashmiri (b. 1940)
- نیلے سایوں کی رات تھی وہوہ ساحل شب پہ سو گئی تھیTabassum Kashmiri (b. 1940)
- وادی کی سب سے لمبی لڑکی کے جسم کے سب مساموں سےریشم سے زیادہ ملائم اور نرم خموشی میںTabassum Kashmiri (b. 1940)
- وہ ایک شب تھی سفید گلابوں والے تالاب کے بالکل نزدیکبادلوں کی پہلی آہٹ پرTabassum Kashmiri (b. 1940)
- ہم شوریدہ کڑوے تلخ کسیلے ذائقےرات کی پر شہوت آنکھوں سے ٹپکے تازہ قطرےTabassum Kashmiri (b. 1940)
- یہاں اب ایک تارہزرد تارہ بھی نہیں باقیTabassum Kashmiri (b. 1940)
- آداب آدابتسلیمات تسلیماتFaiyaz Rifat (1940–2022)
- جسم کی حرارتیںہر خلیے میں تیرتی ہوئیFaiyaz Rifat (1940–2022)
- جنہیں چاہتے ہو پسند کرتے ہوان کی روحوں کو ٹٹولوFaiyaz Rifat (1940–2022)
- جیون مایا ہریالی میںتم جوت جگاتی آئی ہوFaiyaz Rifat (1940–2022)
- سبز شاخوں پر نئےسرخ پتےFaiyaz Rifat (1940–2022)
- میں نے تمہیںتمہارے کنول جھیل چہرے کوFaiyaz Rifat (1940–2022)
- وہ جو اک موڑ ہے پیپل کے گھنے پیڑکے پاسFaiyaz Rifat (1940–2022)
- دفتر میںدفتر سے باہرFaiyaz Rifat (1940–2022)
- انداز کسی کا ہے صدا اور کسی کیہے چوٹ کوئی اور دوا اور کسی کیJafar Sahni (1941–2018)
- ایک معصوم تمنا کی فضا تھی کل تکزندگی ایسی کہاں ہوش ربا تھی کل تکJafar Sahni (1941–2018)
- بیٹھا تھا تن کو ڈھانک کے جو گرم شال سےمشکل میں پڑ گیا وہ ستاروں کی چال سےJafar Sahni (1941–2018)
- پر شور تلاطم کا مداوا کوئی آہٹسنگین فضا میں تھی دلاسا کوئی آہٹJafar Sahni (1941–2018)
- پیچھا ہی نہیں چھوڑتی گھر بار کی خوشبورستے سے عیاں ہے در و دیوار کی خوشبوJafar Sahni (1941–2018)
- تماشا اک انوکھا سا دکھاناتردد میں کھلا چہرہ دکھاناJafar Sahni (1941–2018)
- جبیں پہ شہر کی لکھ کر فضا اداسی کیبہت ہے خوش کوئی دے کر دعا اداسی کیJafar Sahni (1941–2018)
- چاندنی شب بھر ٹہلتی چھت پہ تنہا رہ گئیپیار کی ہر یاد رنگیں بے سہارا ہو گئیJafar Sahni (1941–2018)
- خاک میں لپٹی کہانی اور ہےرنگ لیکن آسمانی اور ہےJafar Sahni (1941–2018)
- خاموش نگاہوں سے وہ یلغار کا ہوناملتا ہے نفی میں کسی اقرار کا ہوناJafar Sahni (1941–2018)
- دل میں بیٹھا تھا ایک ڈر شایدآج بھی ہے وہ ہم سفر شایدJafar Sahni (1941–2018)
- دل میں خیال عشق تھا مہمان کی طرحارماں سجا تھا میرؔ کے دیوان کی طرحJafar Sahni (1941–2018)
- زرد پتا جو ڈال سے نکلاحسرتوں کے وبال سے نکلاJafar Sahni (1941–2018)
- زوال عمر کے پردے میں ہے حجاب کہاںوفور شوق سے لبریز اب گلاب کہاںJafar Sahni (1941–2018)
- شر کی باتوں میں تمازت کا نشاں ہو کہ نہ ہوآگ لگتی ہے تو سینے میں دھواں ہو کہ نہ ہوJafar Sahni (1941–2018)
- طشت میں دھوپ کے ہر سمت زمیں ہے روشنجگمگاتا ہے مکاں اور مکیں ہے روشنJafar Sahni (1941–2018)
- کبھی نازک کبھی بے حد کڑا ہےوہ تغلقؔ سامنے بن کر کھڑا ہےJafar Sahni (1941–2018)