Poetry
Poet
Meter
- میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گااب اس کے بعد مرا امتحان کیا لے گاWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں یہ نہیں کہتا کہ مرا سر نہ ملے گالیکن مری آنکھوں میں تجھے ڈر نہ ملے گاWaseem Barelvi (b. 1940)
- نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتےیہاں منظر ہی ایسے ہیں کہ دل بھرنے نہیں دیتےWaseem Barelvi (b. 1940)
- نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیاہمیں کسی سے نبھانا بھی تو نہیں آیاWaseem Barelvi (b. 1940)
- وہ مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہےجو دنیا سے چھپانا چاہتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتامگر ان احتیاطوں سے تعلق مر نہیں جاتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- ہم اپنے آپ کو اک مسئلہ بنا نہ سکےاسی لئے تو کسی کی نظر میں آ نہ سکےWaseem Barelvi (b. 1940)
- ہمارا عزم سفر کب کدھر کا ہو جائےیہ وہ نہیں جو کسی رہ گزر کا ہو جائےWaseem Barelvi (b. 1940)
- یہ ہے تو سب کے لیے ہو یہ ضد ہماری ہےاس ایک بات پہ دنیا سے جنگ جاری ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- دیر سے ایک ناسمجھ بچہاک کھلونے کے ٹوٹ جانے پرWaseem Barelvi (b. 1940)
- دیوالی کی رات آئی ہے تم دیپ جلائے بیٹھی ہومعصوم امنگوں کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہوWaseem Barelvi (b. 1940)
- شہر میرا اداس گنگا ساکوئی بھی آئے اور اپنے پاپWaseem Barelvi (b. 1940)
- کل بھی میری پیاس پہ دریا ہنستے تھےآج بھی میرے درد کا درماں کوئی نہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
- میرا یہ خواب کہ تم میرے قریب آئی ہواپنے سائے سے جھجکتی ہوئی گھبراتی ہوئیWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں تری یاد کو سینے سے لگائے گزرااجنبی شہر کی مشغول گزر گاہوں سےWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں تم سے چھوٹ رہا ہوں مرے پیارومگر مرا رشتہ پختہ ہو رہا ہے اس زمیں سےWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہےرات کھلنے کا گلابوں سے مہک آنے کاWaseem Barelvi (b. 1940)
- وقت کے تیز گام دریا میںتو کسی موج کی طرح ابھریWaseem Barelvi (b. 1940)
- یہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ اک نادان بچے کی طرح تنہائی کوWaseem Barelvi (b. 1940)
- آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہےبھول جاتا ہے زمیں سے ہی نظر آتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- اسی خیال سے پلکوں پہ رک گئے آنسوتری نگاہ کو شاید ثبوت غم نہ ملےWaseem Barelvi (b. 1940)
- ان سے کہہ دو مجھے خاموش ہی رہنے دے وسیمؔلب پہ آئے گی تو ہر بات گراں گزرے گیWaseem Barelvi (b. 1940)
- بہت سے خواب دیکھو گے تو آنکھیںتمہارا ساتھ دینا چھوڑ دیں گیWaseem Barelvi (b. 1940)
- پھول تو پھول ہیں آنکھوں سے گھرے رہتے ہیںکانٹے بیکار حفاظت میں لگے رہتے ہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
- تجھے پانے کی کوشش میں کچھ اتنا کھو چکا ہوں میںکہ تو مل بھی اگر جائے تو اب ملنے کا غم ہوگاWaseem Barelvi (b. 1940)
- تم میری طرف دیکھنا چھوڑو تو بتاؤںہر شخص تمہاری ہی طرف دیکھ رہا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- جھوٹ کے آگے پیچھے دریا چلتے ہیںسچ بولا تو پیاسا مارا جائے گاWaseem Barelvi (b. 1940)
- رات تو وقت کی پابند ہے ڈھل جائے گیدیکھنا یہ ہے چراغوں کا سفر کتنا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- سبھی رشتے گلابوں کی طرح خوشبو نہیں دیتےکچھ ایسے بھی تو ہوتے ہیں جو کانٹے چھوڑ جاتے ہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
- غم اور ہوتا سن کے گر آتے نہ وہ وسیمؔاچھا ہے میرے حال کی ان کو خبر نہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
- کچھ ہے کہ جو گھر دے نہیں پاتا ہے کسی کوورنہ کوئی ایسے تو سفر میں نہیں رہتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- کسی سے کوئی بھی امید رکھنا چھوڑ کر دیکھوتو یہ رشتہ نبھانا کس قدر آسان ہو جائےWaseem Barelvi (b. 1940)
- کوئی اشارہ دلاسا نہ کوئی وعدہ مگرجب آئی شام ترا انتظار کرنے لگےWaseem Barelvi (b. 1940)
- مجھے پڑھتا کوئی تو کیسے پڑھتامرے چہرے پہ تم لکھے ہوئے تھےWaseem Barelvi (b. 1940)
- محبت میں بچھڑنے کا ہنر سب کو نہیں آتاکسی کو چھوڑنا ہو تو ملاقاتیں بڑی کرناWaseem Barelvi (b. 1940)
- مسلسل حادثوں سے بس مجھے اتنی شکایت ہےکہ یہ آنسو بہانے کی بھی تو مہلت نہیں دیتےWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں اس کو آنسوؤں سے لکھ رہا ہوںکہ میرے بعد کوئی پڑھ نہ پائےWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں بولتا گیا ہوں وہ سنتا رہا خاموشایسے بھی میری ہار ہوئی ہے کبھی کبھیWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں جن دنوں ترے بارے میں سوچتا ہوں بہتانہیں دنوں تو یہ دنیا سمجھ میں آتی ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- میں نے چاہا ہے تجھے عام سے انساں کی طرحتو مرا خواب نہیں ہے جو بکھر جائے گاWaseem Barelvi (b. 1940)
- نہ پانے سے کسی کے ہے نہ کچھ کھونے سے مطلب ہےیہ دنیا ہے اسے تو کچھ نہ کچھ ہونے سے مطلب ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سےمیں اعتبار نہ کرتا تو اور کیا کرتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- وہ دن گئے کہ محبت تھی جان کی بازیکسی سے اب کوئی بچھڑے تو مر نہیں جاتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- ہر شخص دوڑتا ہے یہاں بھیڑ کی طرفپھر یہ بھی چاہتا ہے اسے راستا ملےWaseem Barelvi (b. 1940)
- ہم یہ تو نہیں کہتے کہ ہم تجھ سے بڑے ہیںلیکن یہ بہت ہے کہ ترے ساتھ کھڑے ہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
- آج میں نے اسے نزدیک سے جا دیکھا ہےوہ دریچہ تو مرے قد سے بہت اونچا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- اداسی کا سمندر دیکھ لینامری آنکھوں میں آ کر دیکھ لیناKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- اس کی آنکھوں میں اتر جانے کو جی چاہتا ہےشام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہےKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- تم سے راہ و رسم بڑھا کر دیوانے کہلائیں کیوںجن گلیوں میں پتھر برسیں ان گلیوں میں جائیں کیوںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- تنہائی کی گلی میں ہواؤں کا شور تھاآنکھوں میں سو رہا تھا اندھیرا تھکا ہواKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)