Poetry
Poet
Meter
- ساز آلام پہ دل نغمہ سرا ہوتا ہےاے محبت یہ ترے دور میں کیا ہوتا ہےParkash Nath Parvez (b. 1930)
- شام فرقت ملا یہ سہارا مجھےبارہا بے کسی نے پکارا مجھےParkash Nath Parvez (b. 1930)
- صحرائے زندگی کے لئے نور دیدہ ہوںکانٹا سہی مگر میں گل نو دمیدہ ہوںParkash Nath Parvez (b. 1930)
- گلشن سے آئے ہیں نہ بیاباں سے آئے ہیںاک ماہ وش کے حسن فروزاں کے فیض سےParkash Nath Parvez (b. 1930)
- محو ہے حسن کی اداؤں میںعشق رہتا ہے کن ہواؤں میںParkash Nath Parvez (b. 1930)
- یک بیک جو کسی کا خیال آ گیاروح بے خود ہوئی دل کو حال آ گیاParkash Nath Parvez (b. 1930)
- یہ قدرت کے ہاتھوں کے دل کش صنمکہیں دیکھ کر بت نہ بن جائیں ہمParkash Nath Parvez (b. 1930)
- اپنی آنکھیں ہیں اور تمہارے خوابکتنے پر کیف ہیں ہمارے خوابRaees Rampuri (b. 1930)
- جب سے دل میں ترے بخشے ہوئے غم ٹھہرے ہیںمحرم اور بھی اپنے لئے ہم ٹھہرے ہیںRaees Rampuri (b. 1930)
- جیسے کوئی ربط نہیں ہو جیسے ہوں انجانے لوگکیا سے کیا ہو جاتے ہیں اکثر جانے پہچانے لوگRaees Rampuri (b. 1930)
- خود اپنی ذلت و خواری نہ کرناکسی کم ظرف سے یاری نہ کرناRaees Rampuri (b. 1930)
- دل میں مرے ارمان بہت ہیںاس گھر میں مہمان بہت ہیںRaees Rampuri (b. 1930)
- طرح طرح کے سوالات کرتے رہتے ہیںاب اپنے آپ سے ہم بات کرتے رہتے ہیںRaees Rampuri (b. 1930)
- کم میسر ہو جو ہوتی ہے اسی کی قیمتکثرت غم نے بڑھائی ہے خوشی کی قیمتRaees Rampuri (b. 1930)
- کیا کہیں یہ جبر کیسا زندگی کے ساتھ ہےہم کسی کے ساتھ ہیں اور دل کسی کے ساتھ ہےRaees Rampuri (b. 1930)
- نظر میں سب کی مری بے خودی کا عالم ہےکسے خبر کہ بڑی بے بسی کا عالم ہےRaees Rampuri (b. 1930)
- نیاز عشق سے ناز بتاں تک بات جا پہنچیزمیں کا تذکرہ تھا آسماں تک بات جا پہنچیRaees Rampuri (b. 1930)
- سب کے لیے سوال یہ کب ہے کہ کیا نہ ہوان کو تو مجھ سے ضد ہے کہ میرا کہا نہ ہوRaees Rampuri (b. 1930)
- آ کے محفل میں تری غم سے کنارا نہ ہوامجھ سا دنیا میں کوئی درد کا مارا نہ ہواLateef Nazi (b. 1930)
- اسیروں کا عجب کچھ حال یہ صیاد کرتے ہیںکبھی دل شاد کرتے ہیں کبھی ناشاد کرتے ہیںLateef Nazi (b. 1930)
- ان سے جب بھی کلام ہوتا ہےدل کو دل سے پیام ہوتا ہےLateef Nazi (b. 1930)
- تمہارے آنے سے کچھ نہ پوچھو ہمیں نئی زندگی ملے گیقرار دل کو جگر کو راحت نگاہ کو روشنی ملے گیLateef Nazi (b. 1930)
- خبر بھی ہے محبت کے پرستاروں پہ کیا گزریکوئی ہے پوچھنے والا کہ بیماروں پہ کیا گزریLateef Nazi (b. 1930)
- دوست ملتے رہے منزل پہ گزر ہونے تککوئی ساتھی نہ رہا ختم سفر ہونے تکLateef Nazi (b. 1930)
- غم جاناں عیاں نہ ہو جائےزندگی رائیگاں نہ ہو جائےLateef Nazi (b. 1930)
- کیا شب غم مری بسر نہ ہوئیتم نہ آئے تو کیا سحر نہ ہوئیLateef Nazi (b. 1930)
- کیوں ہو خاموش ماجرا کیا ہےکچھ بتاؤ تمہیں ہوا کیا ہےLateef Nazi (b. 1930)
- ہجر کی رات ہے ویرانہ ہے تنہائی ہےدل لگانے کی عجب ہم نے سزا پائی ہےLateef Nazi (b. 1930)
- خدا رام ہے اور خدا ایشوروہ بھگوان ہے کل جہاں اس کا گھرVaqar Khaleel (b. 1930)
- خوش نما ہے حیات پھولوں کیدیکھنا کائنات پھولوں کیVaqar Khaleel (b. 1930)
- دیکھو تو اس موڑ کے آگےچھوٹا سا اسکول ہماراVaqar Khaleel (b. 1930)
- سڑک پر ریل تیزی سے چلی ہےہوا دیکھو تو پانی سے جلی ہےVaqar Khaleel (b. 1930)
- لہرا رہا ہے دیکھو آکاش پر ترنگاامن و اماں کا پیکر جھنڈا وہ رنگ برنگاVaqar Khaleel (b. 1930)
- مناتا موج گر چوہا میں ہوتاسحر سے شام تک پھرتا ہی رہتاVaqar Khaleel (b. 1930)
- یہ رہ گزررہ گزار خوباں ہے جس کا ہر موڑ کہکشاں ہےVaqar Khaleel (b. 1930)
- کسی کی جب سے جفاؤں کا سلسلہ نہ رہادل حزیں میں محبت کا حوصلہ نہ رہاKaleem Sahasrami (b. 1930)
- نہ ہو جو ان کی طبیعت وفا شعار نہیںہمیں تو تلخیٔ دوراں بھی ناگوار نہیںKaleem Sahasrami (b. 1930)
- آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گاوقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گاAhmad Faraz (1931–2008)
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہمیہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہمAhmad Faraz (1931–2008)
- اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئےبول اے ہوائے شہر کدھر جانا چاہیئےAhmad Faraz (1931–2008)
- اب کیا سوچیں کیا حالات تھے کس کارن یہ زہر پیا ہےہم نے اس کے شہر کو چھوڑا اور آنکھوں کو موند لیا ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناںیاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناںAhmad Faraz (1931–2008)
- اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںجس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیںAhmad Faraz (1931–2008)
- ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیںفرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- اپنی ہی آواز کو بے شک کان میں رکھنالیکن شہر کی خاموشی بھی دھیان میں رکھناAhmad Faraz (1931–2008)
- اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیںکیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیںAhmad Faraz (1931–2008)
- اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کیآج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کیAhmad Faraz (1931–2008)
- اس کا اپنا ہی کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہےیوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوااب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہواAhmad Faraz (1931–2008)
- اس منظر سادہ میں کئی جال بندھے تھےجب اس کا گریبان کھلا بال بندھے تھےAhmad Faraz (1931–2008)