Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیاہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیاAhmad Faraz (1931–2008)
  2. اک بوند تھی لہو کی سر دار تو گرییہ بھی بہت ہے خوف کی دیوار تو گریAhmad Faraz (1931–2008)
  3. اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہےمگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہےAhmad Faraz (1931–2008)
  4. اول اول کی دوستی ہے ابھیاک غزل ہے کہ ہو رہی ہے ابھیAhmad Faraz (1931–2008)
  5. ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتےجو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتےAhmad Faraz (1931–2008)
  6. ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسےتیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہو جیسےAhmad Faraz (1931–2008)
  7. بھید پائیں تو رہ یار میں گم ہو جائیںورنہ کس واسطے بے کار میں گم ہو جائیںAhmad Faraz (1931–2008)
  8. بیٹھے تھے لوگ پہلو بہ پہلو پیے ہوئےاک ہم تھے تیری بزم میں آنسو پیے ہوئےAhmad Faraz (1931–2008)
  9. پھر اسی رہ گزار پر شایدہم کبھی مل سکیں مگر شایدAhmad Faraz (1931–2008)
  10. پیام آئے ہیں اس یار بے وفا کے مجھےجسے قرار نہ آیا کہیں بھلا کے مجھےAhmad Faraz (1931–2008)
  11. پیچ رکھتے ہو بہت صاحبو دستار کے بیچہم نے سر گرتے ہوئے دیکھے ہیں بازار کے بیچAhmad Faraz (1931–2008)
  12. تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئےپھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئےAhmad Faraz (1931–2008)
  13. تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوستتو مری پہلی محبت تھی مری آخری دوستAhmad Faraz (1931–2008)
  14. تجھے ہے مشق ستم کا ملال ویسے ہیہماری جان تھی جاں پر وبال ویسے ہیAhmad Faraz (1931–2008)
  15. ترا قرب تھا کہ فراق تھا وہی تیری جلوہ گری رہیکہ جو روشنی ترے جسم کی تھی مرے بدن میں بھری رہیAhmad Faraz (1931–2008)
  16. ترس رہا ہوں مگر تو نظر نہ آ مجھ کوکہ خود جدا ہے تو مجھ سے نہ کر جدا مجھ کوAhmad Faraz (1931–2008)
  17. تڑپ اٹھوں بھی تو ظالم تری دہائی نہ دوںمیں زخم زخم ہوں پھر بھی تجھے دکھائی نہ دوںAhmad Faraz (1931–2008)
  18. تو کہ انجان ہے اس شہر کے آداب سمجھپھول روئے تو اسے خندۂ شاداب سمجھAhmad Faraz (1931–2008)
  19. تھا عبث ترک تعلق کا ارادہ یوں بھیعشق زندہ نہیں رہتا ہے زیادہ یوں بھیAhmad Faraz (1931–2008)
  20. تھا کوئی یا نہیں تھا جو کچھ تھادل کے اندر کہیں تھا جو کچھ تھاAhmad Faraz (1931–2008)
  21. تیری باتیں ہی سنانے آئےدوست بھی دل ہی دکھانے آئےAhmad Faraz (1931–2008)
  22. تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوںمیں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوںAhmad Faraz (1931–2008)
  23. تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغلوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغAhmad Faraz (1931–2008)
  24. جاناں دل کا شہر نگر افسوس کا ہےتیرا میرا سارا سفر افسوس کا ہےAhmad Faraz (1931–2008)
  25. جان سے عشق اور جہاں سے گریزدوستوں نے کیا کہاں سے گریزAhmad Faraz (1931–2008)
  26. جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گےلوگ آرام سے سوئے ہوں گےAhmad Faraz (1931–2008)
  27. جب تجھے یاد کریں کار جہاں کھینچتا ہےاور پھر عشق وہی کوہ گراں کھینچتا ہےAhmad Faraz (1931–2008)
  28. جب تری یاد کے جگنو چمکےدیر تک آنکھ میں آنسو چمکےAhmad Faraz (1931–2008)
  29. جب ہر اک شہر بلاؤں کا ٹھکانہ بن جائےکیا خبر کون کہاں کس کا نشانہ بن جائےAhmad Faraz (1931–2008)
  30. جب یار نے رخت سفر باندھا کب ضبط کا پارا اس دن تھاہر درد نے دل کو سہلایا کیا حال ہمارا اس دن تھاAhmad Faraz (1931–2008)
  31. جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرےتو کہاں ہے مگر اے دوست پرانے میرےAhmad Faraz (1931–2008)
  32. جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہواے جان جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہوAhmad Faraz (1931–2008)
  33. جس سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھیدیکھا تو وہ تصویر ہر اک دل سے لگی تھیAhmad Faraz (1931–2008)
  34. جسم شعلہ ہے جبھی جامۂ سادہ پہنامیرے سورج نے بھی بادل کا لبادہ پہناAhmad Faraz (1931–2008)
  35. جو بھی درون دل ہے وہ باہر نہ آئے گااب آگہی کا زہر زباں پر نہ آئے گاAhmad Faraz (1931–2008)
  36. جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئےکہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئےAhmad Faraz (1931–2008)
  37. جو قربتوں کے نشے تھے وہ اب اترنے لگےہوا چلی ہے تو جھونکے اداس کرنے لگےAhmad Faraz (1931–2008)
  38. چاک پیراہنیٔ گل کو صبا جانتی ہےمستئ شوق کہاں بند قبا جانتی ہےAhmad Faraz (1931–2008)
  39. چل نکلتی ہیں غم یار سے باتیں کیا کیاہم نے بھی کیں در و دیوار سے باتیں کیا کیاAhmad Faraz (1931–2008)
  40. چلے تھے یار بڑے زعم میں ہوا کی طرحپلٹ کے دیکھا تو بیٹھے ہیں نقش پا کی طرحAhmad Faraz (1931–2008)
  41. خاموش ہو کیوں داد جفا کیوں نہیں دیتےبسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتےAhmad Faraz (1931–2008)
  42. خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھاجو چھوڑ گیا اس کو پلٹ کر نہیں دیکھاAhmad Faraz (1931–2008)
  43. دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیںدل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیںAhmad Faraz (1931–2008)
  44. دل بدن کا شریک حال کہاںہجر پھر ہجر ہے وصال کہاںAhmad Faraz (1931–2008)
  45. دل گرفتہ ہی سہی بزم سجا لی جائےیاد جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائےAhmad Faraz (1931–2008)
  46. دل منافق تھا شب ہجر میں سویا کیسااور جب تجھ سے ملا ٹوٹ کے رویا کیساAhmad Faraz (1931–2008)
  47. دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والاوہی انداز ہے ظالم کا زمانے والاAhmad Faraz (1931–2008)
  48. رات کے پچھلے پہر رونے کے عادی روئےآپ آئے بھی مگر رونے کے عادی روئےAhmad Faraz (1931–2008)
  49. رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آآ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آAhmad Faraz (1931–2008)
  50. روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیںدر سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیںAhmad Faraz (1931–2008)