اسیروں کا عجب کچھ حال یہ صیاد کرتے ہیں

Lateef Nazi (b. 1930)

اسیروں کا عجب کچھ حال یہ صیاد کرتے ہیں

کبھی دل شاد کرتے ہیں کبھی ناشاد کرتے ہیں

جنہیں دل میں بسایا تھا جنہیں ہم یاد کرتے ہیں

ہمارے دل کی دنیا کو وہی برباد کرتے ہیں

ہماری یاد تو دل سے بھلا رکھی تھی مدت سے

نہ جانے کس لئے ہم کو وہ پھر سے یاد کرتے ہیں

ستم بھی ہے کرم ان کا سمجھ کر کچھ یہی دل میں

جہان عشق کو ہم شوق سے آباد کرتے ہیں

ہمارے قصر دل کو ڈھا رہے ہو کچھ خبر بھی ہے

اسے برباد کرتے ہو جسے آباد کرتے ہیں

زمین و آسماں روتے ہیں لیکن وہ نہیں روتے

تڑپ کر شدت غم سے جو ہم فریاد کرتے ہیں

قمر بے نور ہوتا ہے ستارے ماند پڑتے ہیں

رخ روشن کو اس کے ہم جو نازیؔ یاد کرتے ہیں