خبر بھی ہے محبت کے پرستاروں پہ کیا گزری

Lateef Nazi (b. 1930)

خبر بھی ہے محبت کے پرستاروں پہ کیا گزری

کوئی ہے پوچھنے والا کہ بیماروں پہ کیا گزری

عیادت سے وہ جب پلٹیں تو ان سے پوچھ لے کوئی

وہ کہہ دیں گے بخوبی دل کے بیماروں پہ کیا گزری

دل یوسف سے کیا پوچھے زلیخا سے ذرا کوئی

خریداروں پہ کیا گزری ہے بازاروں پہ کیا گزری

سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ ہے یہ راز الفت کیا

بچے کیوں کر خلیل اللہ انگاروں پہ کیا گزری

نہ پوچھو جلوہ فرما جب ہوئے وہ ناز و شوخی سے

ہوا کیا حال دیوانوں کا ہشیاروں پہ کیا گزری

تم اٹھ کر کیا گئے محفل سے اک محشر ہوا برپا

تمہیں معلوم ہی کیا ہے پرستاروں پہ کیا گزری

ہوا شاگرد جب میں حضرت محوی کا اے نازیؔ

تجھے کچھ علم ہے سن کر خبر یاروں پہ کیا گزری