کیا شب غم مری بسر نہ ہوئی

Lateef Nazi (b. 1930)

کیا شب غم مری بسر نہ ہوئی

تم نہ آئے تو کیا سحر نہ ہوئی

شام غم کی کبھی سحر نہ ہوئی

جو دعا کی وہ کارگر نہ ہوئی

شب فرقت طویل تھی جتنی

اور کوئی رات اس قدر نہ ہوئی

تھی نگاہ کرم رقیبوں پر

عمر بھر وہ کبھی ادھر نہ ہوئی

کیا کہوں اپنی نا مرادیٔ دل

کہ محبت بھی معتبر نہ ہوئی

مری بربادیوں کے قصوں پر

کب زمانے کی آنکھ تر نہ ہوئی

شب وعدہ وہ آ گئے نازیؔ

شکر ہے کچھ اگر مگر نہ ہوئی