Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہےزنجیر بھی آوازۂ زنجیر بھی چاہےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  2. سر پر کوئی آسمان رکھ دےاک منہ میں مگر زبان رکھ دےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  3. شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کیشرط ہی اور ہے شائستۂ فن ہونے کیGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  4. کیسے ڈوبا ڈوب گیاڈوبنے والا ڈوب گیاGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  5. متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہوتضیع‌ عمر کا آخر کوئی جواز تو ہوGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  6. مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہوغم بڑھے بھی تو سہی درد زیادہ بھی تو ہوGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  7. میں خود ہی خوگر خلش جستجو نہ تھادشوار ورنہ مرحلۂ آرزو نہ تھاGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  8. ہاں کاہش فضول کا حاصل بھی کچھ نہیںلیکن حیات بے خلش دل بھی کچھ نہیںGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  9. ہے جو بھی جزا سزا عطا ہوہونا ہے جو آج برملا ہوGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  10. یہاں کون اس کے سوا رہ گیازمانہ گیا آئنہ رہ گیاGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  11. یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہےکوئی دریوزہ گر اپنا کوئی تیرا سوالی ہےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
  12. آنکھ میں آنسو نظر میں درد پیدا کر گیامیرا ہنسنے کا ارادہ کیا غضب ڈھا کر گیاBalraj Hairat (1930–1995)
  13. اپنے رنج و غم بانٹے ہم سے با خبر نکلےساتھ چلنے والوں میں کوئی ہم سفر نکلےBalraj Hairat (1930–1995)
  14. اک فاختہ یہ پوچھ رہی ہے ہواؤں سےکب تک چلے گا کام تمہاری دعاؤں سےBalraj Hairat (1930–1995)
  15. ترک و طلب کے ہنگاموں کو عشق سمجھنا وحشت ہےعشق تحیر بے پایاں ہے عشق مجسم حیرت ہےBalraj Hairat (1930–1995)
  16. تسلیم ان آنکھوں کا اعجاز مسیحائیلیکن یہ بتا آخر کس کس نے شفا پائیBalraj Hairat (1930–1995)
  17. چھوڑ دے کرب انا موجۂ پر خم بننازندگی سیکھ گئی گیسوئے برہم بنناBalraj Hairat (1930–1995)
  18. حساس دل تھا شرم سے نم دیدہ ہو گیاناحق میں اس کی بات پہ رنجیدہ ہو گیاBalraj Hairat (1930–1995)
  19. خود ہی اپنا راز خود ہی راز داں بن جاؤں گاایک لمحے کا یقیں ہوں پھر گماں بن جاؤں گاBalraj Hairat (1930–1995)
  20. سخت نا ہموار و مشکل تھا مگر ایسا نہ تھامیں نے جب راہیں تراشی تھیں سفر ایسا نہ تھاBalraj Hairat (1930–1995)
  21. عقل کے دشمن بھی ہم ٹھہرے دل کا بھی نقصان کیاذوق طلب کی آڑ میں حیرتؔ نفس نے کیا حیران کیاBalraj Hairat (1930–1995)
  22. قرنوں پرانا وقت کو للکارتا ہوااک شہر ہے ہمارے بھی اندر بسا ہواBalraj Hairat (1930–1995)
  23. کرشمہ کیا نہ ہوا بات کون سی نہ ہوئیمگر چراغ تلے روشنی کبھی نہ ہوئیBalraj Hairat (1930–1995)
  24. کسی نشے سے بیشتر تو نہ تھارشتۂ غم بھی معتبر تو نہ تھاBalraj Hairat (1930–1995)
  25. کل آسمان جیسے کوئی شعلہ زار تھاسورج کے ڈوبنے میں بھی کتنا وقار تھاBalraj Hairat (1930–1995)
  26. کہیں خلا میں کوئی روح چیختی ہوگیمرا خیال ہے اب شام ڈھل چکی ہوگیBalraj Hairat (1930–1995)
  27. کھڑے ہیں سامنے احباب اجگروں کی طرحبلا رہا ہے بیاباں کھلے دروں کی طرحBalraj Hairat (1930–1995)
  28. نادانیوں کو ایک نیا رنگ دے دیادانستہ میں نے ہاتھ تہ سنگ دے دیاBalraj Hairat (1930–1995)
  29. نہ تیری شکل سے واقف نہ تیری باس سے لوگشناخت کیسے کریں گے تجھے قیاس سے لوگBalraj Hairat (1930–1995)
  30. آپ ہیں کیا ملک صفت آپ ہیں کیا پتا نہیںہم تو گناہ گار ہیں ہم کوئی پارسا نہیںYas Chandpuri (b. 1930)
  31. اک بھلا کام کوئی کر کے دکھاؤ تو سہیکوئی گرتی ہوئی دیوار اٹھاؤ تو سہیYas Chandpuri (b. 1930)
  32. پر خطر راہ اگر ہو تو سفر مت کیجےزندگی زیر و زبر ہو تو سفر مت کیجےYas Chandpuri (b. 1930)
  33. جب تیرے سوا کوئی مرے کام نہ آئےکیوں لب پہ محبت سے ترا نام نہ آئےYas Chandpuri (b. 1930)
  34. خلوص پیار کا اب کوئی سلسلہ بھی نہیںدلوں کے بیچ وہ پہلا سا رابطہ بھی نہیںYas Chandpuri (b. 1930)
  35. خود کو اعلیٰ صفات لکھ دیتےکچھ تو وہ دل کی بات لکھ دیتےYas Chandpuri (b. 1930)
  36. دلوں میں مدحت رحمان ہم بھی رکھتے ہیںوقار عظمت قرآن ہم بھی رکھتے ہیںYas Chandpuri (b. 1930)
  37. دنیا کی لذتوں سے مفر کر رہا ہوں میںبس سادگی سے عمر بسر کر رہا ہوں میںYas Chandpuri (b. 1930)
  38. رہزن رہبر ہو جاتے ہیںکم تر برتر ہو جاتے ہیںYas Chandpuri (b. 1930)
  39. سب کے ہاتھوں میں آج پتھر ہےاور نشانے پہ بس مرا سر ہےYas Chandpuri (b. 1930)
  40. کسی پہ قہر کسی پہ عتاب ہو کے رہاکسی پہ لطف ترا بے حساب ہو کے رہاYas Chandpuri (b. 1930)
  41. مری نگاہ میں سود و زیاں نہیں کچھ بھیوہاں ملے گا اگرچہ یہاں نہیں کچھ بھیYas Chandpuri (b. 1930)
  42. ہائے کیسا یہ زمانے کا اثر لگتا ہےجس کو دیکھو وہی افسردہ بشر لگتا ہےYas Chandpuri (b. 1930)
  43. ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا ایسا عمل اغیار کریں گےجینا بھی دشوار کریں گے مرنا بھی دشوار کریں گےYas Chandpuri (b. 1930)
  44. یقیناً کوئی گہرا رابطہ ہےوہ جو مڑ مڑ کے مجھ کو دیکھتا ہےYas Chandpuri (b. 1930)
  45. اے کائنات تیرے سہارے ہمیں تو ہیںتیرے نظر نواز اشارے ہمیں تو ہیںParkash Nath Parvez (b. 1930)
  46. پیار کے بندھن کاٹ رہے ہیں پریم کا رشتہ توڑ رہے ہیںشہر محبت کے باشندے شہر محبت چھوڑ رہے ہیںParkash Nath Parvez (b. 1930)
  47. حسن پابند جفا ہو جیسےیہ کوئی خاص ادا ہو جیسےParkash Nath Parvez (b. 1930)
  48. خوب تھیں میکدے کی فضائیںرہ گئیں چھٹ کے غم کی گھٹائیںParkash Nath Parvez (b. 1930)
  49. دل میں اک درد نہاں ہو تو غزل ہوتی ہےسیل جذبات رواں ہو تو غزل ہوتی ہےParkash Nath Parvez (b. 1930)
  50. رہ طلب میں ہمیں غم پہ غم نظر آئےبقدر ذوق مگر پھر بھی کم نظر آئےParkash Nath Parvez (b. 1930)