یک بیک جو کسی کا خیال آ گیا

Parkash Nath Parvez (b. 1930)

یک بیک جو کسی کا خیال آ گیا

روح بے خود ہوئی دل کو حال آ گیا

دہر سے رسم مہر و وفا اٹھ گئی

آدمیت میں کیسا زوال آ گیا

کوئی دیکھے ترے حسن کی ساحری

جس نے دیکھا تجھے اس کو حال آ گیا

پڑ گئی جب کسی کی نگاہ کرم

میرے بھوؤں میں رنگ کمال آ گیا

پوچھتے کیا ہو پرویزؔ کی داستاں

ان کی محفل سے ہو کر نڈھال آ گیا