Poetry
Hazaj Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف- انداز کسی کا ہے صدا اور کسی کیہے چوٹ کوئی اور دوا اور کسی کیJafar Sahni (1941–2018)
- پر شور تلاطم کا مداوا کوئی آہٹسنگین فضا میں تھی دلاسا کوئی آہٹJafar Sahni (1941–2018)
- پیچھا ہی نہیں چھوڑتی گھر بار کی خوشبورستے سے عیاں ہے در و دیوار کی خوشبوJafar Sahni (1941–2018)
- خاموش نگاہوں سے وہ یلغار کا ہوناملتا ہے نفی میں کسی اقرار کا ہوناJafar Sahni (1941–2018)
- لمحوں کے اشارے میں جفا دیکھ کے چپ ہےکس واسطے ہر غم کو خدا دیکھ کے چپ ہےJafar Sahni (1941–2018)
- ہر سمت اڑی گرد مرے شہر گماں میںمحصور تمنا ہے زمانے کے دھواں میںJafar Sahni (1941–2018)
- لو دینے لگا ہے تری یادوں کا دیا پھربہکے نہ کہیں دیکھنا جنگل کی ہوا پھرHafeez Betab (b. 1941)
- نفرت کی حقارت کی عداوت کی ہوئی باتاب تک نہ ہوئی ان سے محبت کی کوئی باتM. S. Rahi (b. 1941)
- ہم چہرۂ زنار کو پوجا نہیں کرتےیعنی دل خوددار کو رسوا نہیں کرتےM. S. Rahi (b. 1941)
- کہنے کے لیے کیوں کوئی تیار نہیں ہےدنیا ہے یہاں کون اداکار نہیں ہےHafeez Aatish (b. 1942)
- ہنستے ہوئے اکثر مجھے محسوس ہوا ہےآئی ہے یہیں سے کہیں رونے کی صدا بھیHafeez Aatish (b. 1942)
- کیوں قتل کے ارمان میں آزار اٹھائیںگردن مری حاضر ہے وہ تلوار اٹھائیںHafeez Shahid (1942–2014)
- یہ رنگ ترے شہر کے صحرا میں کہاں ہیںگلیاں ہیں نہ کوچے ہیں مکیں ہیں نہ مکاں ہیںHafeez Shahid (1942–2014)
- بستی بھی سمندر بھی بیاباں بھی مرا ہےآنکھیں بھی مری خواب پریشاں بھی مرا ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھےہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھےIftikhar Arif (b. 1943)
- دکھ اور طرح کے ہیں دعا اور طرح کیاور دامن قاتل کی ہوا اور طرح کیIftikhar Arif (b. 1943)
- دنیا میں وہی لوگ برے ہیں جو بھلے ہیںڈھونڈو گے اندھیرے تو چراغوں کے تلے ہیںVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- سورج سے بھی آگے کا جہاں دیکھ رہا ہےاس دور کا انسان کہاں دیکھ رہا ہےEhsan Saqib (b. 1943)
- ہنستی ہوئی تنہا وہ دریچے میں کھڑی ہےلڑکی ہے کہ ترشے ہوئے ہیروں کی لڑی ہےQamar Iqbal (1944–1988)
- کھولے ہوئے گیسو ہو پریشان لگو ہواس دل کی طرح تم بھی مری جان لگو ہوBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- ہو پیاس سلامت مئے گلفام بہت ہےمے خانہ بہت ساقی بہت جام بہت ہےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- دل ہے کہ غم دل کا عزا دار نہیں ہےجاں ہے کہ سم زیست سے بیزار نہیں ہےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- کب کون کہاں کس لیے زنجیر بپا ہےیہ عقدۂ اسرار ازل کس پہ کھلا ہےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- کچھ اور مرے درد کے شعلوں کو ہوا دوبے نور ہوئے داغ اندھیرا ہے ضیا دوJaleel 'Aali' (b. 1945)
- لٹتے ہیں بہت سہل کہ دن ایسے کڑے ہیںگھر میں نہیں جیسے کہیں جنگل میں پڑے ہیںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- آواز کے پتھر جو کبھی گھر میں گرے ہیںآسیب خموشی کے صباؔ چیخ پڑے ہیںSaba Ikram (b. 1945)
- چکھو گے اگر پیاس بڑھا دے گا یہ پانیپانی تمہیں ہرگز نہ صباؔ دے گا یہ پانیSaba Ikram (b. 1945)
- لمحوں کے پرندے ہیں لئے چونچ میں کنکرسہما سا ڈرا سا ہے کھڑا زیست کا لشکرSaba Ikram (b. 1945)
- ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتادل اس سے ملا جس سے مقدر نہیں ملتاNaseer Turabi (1945–2021)
- سہمی ہوئی گلشن میں ہر اک آج کلی ہےشعلوں کی کبھی پیاس بھی شبنم سے بجھی ہےZafar Hashmi (b. 1945)
- اٹھے نہ دھواں ایسی فضا کس نے ہمیں دیاس طرح سلگنے کی سزا کس نے ہمیں دیM. K. Asar (b. 1945)
- مرنے کی ادا اور ہے جینے کی ادا اورجو چاہوں سمجھنا بھی تو روکے ہے انا اورM. K. Asar (b. 1945)
- جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہےیا وہ کوئی ابلیس ہے یا میرا خدا ہےFahmida Riaz (1946–2018)
- اے اہل وطن شام و سحر جاگتے رہنااغیار ہیں آمادۂ شر جاگتے رہناJafar Malihabadi (b. 1946)
- پہلے تو کبھی وقت یہ ہم پر نہیں آیاہم چلتے رہے چلتے رہے گھر نہیں آیاBadr Jameel (b. 1946)
- گلیوں میں مری گاؤں کا ڈر بول رہا ہےلگتا ہے سیاست کا اثر بول رہا ہےM. I. Sajid (b. 1946)
- اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرحالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کرMohsin Naqvi (1947–1996)
- بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیںصحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیںMohsin Naqvi (1947–1996)
- غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن توہے میرا سخن تو مرا موضوع سخن توMohsin Naqvi (1947–1996)
- دل پر جو تری یاد کا پہرا نہیں ہوتاساگر کی طرح زخم بھی گہرا نہیں ہوتاKailash Guru Swami (b. 1948)
- کچھ حرج نہیں جام جو بیگانہ لگے ہےرندوں سے خفا ساقئ مے خانہ لگے ہےZafar Adil Quraishi (b. 1948)
- ہے پیار کا یہ کھیل کہاں مکر سے خالیلیکن دل ناداں کو دکھانا نہیں آیاOzair Rahman (b. 1949)
- توقیر اندھیروں کی بڑھا دی گئی شایداک شمع جو روشن تھی بجھا دی گئی شایدEhteram Islam (b. 1949)
- پلکوں پہ رکا قطرۂ مضطر کی طرح ہوںباہر سے بھی بے چین میں اندر کی طرح ہوںYaseen Afzal (b. 1949)
- ہم نے تجھے دیکھا نہیں کیا عید منائیںجس نے تجھے دیکھا ہو اسے عید مبارکLiyaqat Ali Aasim (1951–2019)
- دریا کی روانی وہی دہشت بھی وہی ہےاور ڈوبتے لمحات کی صورت بھی وہی ہےYasmeen Hameed (b. 1951)
- دیکھا تو کوئی اور تھا سوچا تو کوئی اورجب آ کے ملا اور تھا چاہا تو کوئی اورIbrahim Ashk (b. 1951)
- گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتےکرتے ہیں بہت لوگ مگر ہم نہیں کرتےFaisal Ajmi (b. 1951)
- ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہےمہتاب بڑی دیر سے گہنایا ہوا ہےFaisal Ajmi (b. 1951)
- یوں تو مرا اس سے کوئی پردہ بھی نہیں ہےلیکن کبھی میں نے اسے دیکھا بھی نہیں ہےTabish Mehdi (b. 1951)