دل پر جو تری یاد کا پہرا نہیں ہوتا
Kailash Guru Swami (b. 1948)دل پر جو تری یاد کا پہرا نہیں ہوتا
ساگر کی طرح زخم بھی گہرا نہیں ہوتا
خوابوں کا بہت دیکھنا اچھا نہیں ہوتا
ہر خواب یقیناً کبھی سچا نہیں ہوتا
مرضی ہے مری جس کو بھی چاہوں اسے دیکھوں
آنکھوں پہ کسی ذات کا پہرا نہیں ہوتا
للہ طبیبوں کو دکھاتے ہو مجھے کیوں
اس ٹوٹے ہوئے دل کا مداوا نہیں ہوتا
نکلا ہے کہاں ریت میں تو پیاس بجھانے
صحرا میں جو دکھتا ہے وہ دریا نہیں ہوتا
ہونٹوں کو نجومی کے جو سینا ہے تو سی دو
تقدیر کا لکھا کبھی جھوٹا نہیں ہوتا
کوئی نہ اگر چھینتا بچے کا نوالا
وہ پیٹ پکڑ کر کبھی سویا نہیں ہوتا
سوامیؔ ذرا سورج کو سمندر سے نکالو
تھک ہار کے یوں ڈوبنا اچھا نہیں ہوتا