دنیا میں وہی لوگ برے ہیں جو بھلے ہیں

Vijendra Singh Parwaz (b. 1943)

دنیا میں وہی لوگ برے ہیں جو بھلے ہیں

ڈھونڈو گے اندھیرے تو چراغوں کے تلے ہیں

چھوڑا نہ گیا دھوپ میں جس پیڑ کا سایا

آندھی میں اسی پیڑ سے ہم بچ کے چلے ہیں

یہ دیکھیے پھر بھی نہ بدل پائی یہ دنیا

لوگوں نے تو بھولوں پہ بہت ہاتھ ملے ہیں

وہ بھی تو ہمیں چھوڑ کے رخصت ہوئے کب کے

ہم جن کے اندھیروں میں چراغوں سے جلے ہیں

اونچائیاں حاصل ہوئیں تقدیر سے جن کو

اک روز وہ سب لوگ بھی سورج سے ڈھلے ہیں

تقدیر نے ان کو بھی ستاروں پہ بٹھایا

پروازؔ جو انسان غریبی میں پلے ہیں