کچھ حرج نہیں جام جو بیگانہ لگے ہے

Zafar Adil Quraishi (b. 1948)

کچھ حرج نہیں جام جو بیگانہ لگے ہے

رندوں سے خفا ساقئ مے خانہ لگے ہے

اس شام کی توقیر کو عاشق سے ہی پوچھو

یہ حسن اسے صبح صنم خانہ لگے ہے

دیکھے ہے رخ جاناں پہ جب زلف پریشاں

اس دور کا فرزانہ بھی دیوانہ لگے ہے

اک میں ہی نہیں لگتا ترے پیار کا مارا

ہر شخص ترے پیار کا دیوانہ لگے ہے

دیکھا ہے مجھے جب بھی کہا اہل خرد نے

دل میرا کسی شمع کا پروانہ لگے ہے

محفل سے مرے ذکر پہ چل دیتے ہیں اٹھ کر

یہ طرز عمل ان کا رقیبانہ لگے ہے

اس حسن کی محفل کے ہر انداز سے یارو

عادلؔ ہی ہمیں بانیٔ افسانہ لگے ہے