ہنستے ہوئے اکثر مجھے محسوس ہوا ہے
Hafeez Aatish (b. 1942)ہنستے ہوئے اکثر مجھے محسوس ہوا ہے
آئی ہے یہیں سے کہیں رونے کی صدا بھی
کس شہر سے لوٹا ہے کہ خود اپنے ہی گھر میں
راتوں کو جلاتے ہوئے ڈرتا ہے دیا بھی
جا بیٹھے سمندر کے کنارے کبھی تنہا
لہروں کی شرارت سے ہوئے خود ہی خفا بھی
ہر روز وہی شام وہی نشہ وہی لوگ
کچھ دن کے لیے یاں سے طبیعت کو ہٹا بھی
سوکھے ہوئے پیڑوں میں کہیں آگ چھپی تھی
اب چھیڑ کے پچھتاتی ہے جنگل کو ہوا بھی