Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- اب تک ہماری عقل سے پردہ ہٹا نہیںسمجھا اسی کو آسرا جو آسرا نہیںIftikhar Ahamad Siddiqi
- اول تو جلوہ گاہ میں دل کی بساط کیادل ہے جنوں نواز تو پھر احتیاط کیاIftikhar Ahamad Siddiqi
- تنظیم دہر کی تو سہی خیر و شر کے ساتھلیکن خطا و سہو لگا کر بشر کے ساتھIftikhar Ahamad Siddiqi
- دنیا میں بے حجاب مری ذات بھی تو ہواے عشق تیری کوئی کرامات بھی تو ہوIftikhar Ahamad Siddiqi
- شوخی سے کشمکش نہیں اچھی حجاب کیکھل جائے گی گرہ ترے بند نقاب کیعزیز حیدرآبادی
- تھا انجمن میں غیر کی دلبر بنا ہوابیٹھا ہے میرے سامنے پتھر بنا ہواBadr Jamali
- ہر غم پہ آج کل ہے خوشی کا گماں مجھےلے آئی یاد یار کہاں سے کہاں مجھےBadr Jamali
- نور سحر کہاں ہے اگر شام غم گئیکب التفات تھا کہ جو خوئے ستم گئیمختار صدیقی
- آئینہ اک خیال کا ہوں شیشہ گر نہیںمیں وہ مکاں ہوں جس کا کوئی بام و در نہیںNaeem Saba
- رخت سفر کا میں نے ارادہ نہیں کیاروشن چراغ منزل جادہ نہیں کیاNaeem Saba
- اک بے ہنر ہوں اور ہنر چاہتی ہوں میںاب دھوپ کے سفر میں شجر چاہتی ہوں میںSabeenSaif
- آنکھوں کو سوجھتا ہی نہیں کچھ سوائے دوستکانوں میں آ رہی ہے برابر صدائے دوستشرف مجددی
- کیوں دیکھتے ہی نقش بہ دیوار بن گئےتم آئنے میں کس کے خریدار بن گئےشرف مجددی
- ہوش و خرد کا راہ جنوں میں گزر نہیںیاں با خبر وہ ہے جسے اپنی خبر نہیںVahshi Kanpuri
- اب مصر میں کہاں کوئی بازار معتبریوسف ہی معتبر نہ خریدار معتبرHabab Hashmi
- سوز و گداز و جذب و اثر کون لے گیاہم سے متاع درد جگر کون لے گیاHabab Hashmi
- صحن چمن سے ہم نہ بیاباں سے آئے ہیںبرباد ہو کے کوچۂ جاناں سے آئے ہیںTahavvur Ali Zaidi
- وہ اک نظر جو دل سے جگر تک اتر گئیافسانۂ حیات کی تکمیل کر گئیTahavvur Ali Zaidi
- ہر آہ بے اثر ہی نہیں با اثر بھی ہےمدت سے جو ادھر تھا وہ عالم ادھر بھی ہےTahavvur Ali Zaidi
- باتیں نہ کس نے ہم کو کہیں تیرے واسطےاور ہم نے بھی نہ کس کی سہیں تیرے واسطےعیش دہلوی
- خوش فہمیوں کو غور کا یارا نہیں رہاطوفاں کی زد سے دور کنارا نہیں رہاYaqoob Usmani
- آندھی ہے تیز دھول سے گھر اور اٹ نہ جائےٹوٹے کواڑ بند کرو دم الٹ نہ جائےZafar Ghauri
- دریا کی بے پناہ روانی سے ڈر لگاوہ سگ گزیدہ تھا اسے پانی سے ڈر لگاBadr-e-Alam Khan Azmi
- سب کائنات حسن کا حاصل لئے ہوئےبیٹھا ہوں دل میں عشق کی محفل لئے ہوئےباسط بھوپالی
- وارفتگیٔ عشق نہ جائے تو کیا کریںتیرا بھی اب خیال نہ آئے تو کیا کریںباسط بھوپالی
- آدھا مزہ وصال کا پائے ہوئے تو ہوںننگا گلے سے تم کو لگائے ہوئے تو ہوںبوم میرٹھی
- تم عادتاً کہو گے اسے یار معذرتلیکن یہ اعتراف کے زمرے میں آئے گاEhsanul Haq Mazhar
- بے خوف غیر دل کی اگر ترجماں نہ ہوبہتر ہے اس سے یہ کہ سرے سے زباں نہ ہومحمد علی جوہر
- ہم معنی ہوس نہیں اے دل ہوائے دوستراضی ہو بس اسی میں ہو جس میں رضائے دوستمحمد علی جوہر
- کل وصل میں بھی نیند نہ آئی تمام شبایک ایک بات پر تھی لڑائی تمام شبممنون نظام الدین
- اس سنگ دل کے دل میں محبت نے گھر کیامدت کے بعد آہ نے اپنی اثر کیامنشی شیو پرشاد وہبی
- پرتو ہے تیرے رخ کا جو جام شراب میںآتا ہے ماہتاب نظر آفتاب میںمنشی ٹھاکر پرساد طالب
- امید ہے کہ مجھ کو خدا آدمی کرےپر آدمی کرے تو بھلا آدمی کرےمنتظر لکھنوی
- باتیں ہیں واعظوں کی عذاب و ثواب کیادو دن کی زندگی میں حساب و کتاب کیامرزا مائل دہلوی
- تم لے کے اپنے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھنااور دیکھنا تو تن پہ مرے سر نہ دیکھنامرزا مائل دہلوی
- ڈوبا ہوا اٹھوں دم محشر شراب میںدے دیں کفن جو یار ڈبو کر شراب میںمرزا مائل دہلوی
- واعظ پئے ہوئے ہوں خدا کے لئے نہ چھیڑدھڑکا مٹا ہوا ہے عذاب و ثواب کامرزا مائل دہلوی
- جاں اپنی وقف زحمت ہجراں کئے ہوئےعاشق ہر اک بلا کو ہیں مہماں کئے ہوئےناصری لکھنوی
- یوں مبتلا کسی پہ کوئی اے خدا نہ ہودل دے دیا ہو اور امید وفا نہ ہوناصری لکھنوی
- دشمن کی بات جب تری محفل میں رہ گئیامید یاس بن کے مرے دل میں رہ گئیرسا رامپوری
- وہ خوش کسی کے ساتھ ہیں ناخوش کسی کے ساتھہر آدمی کی بات ہے ہر آدمی کے ساتھرسا رامپوری
- عاشق کو تیرے لاکھ کوئی رہنما ملےتیرا پتا ملا ہے نہ تیرا پتا ملےرسا رامپوری
- بے حال دل کا حال کروں تو غزل کہوںجینے کا پھر ملال کروں تو غزل کہوںYasmin Husaini Zaidi Nikhat
- کوئی تو بات ہوگی تمہاری نگاہ میںدل جو نہ رہ سکا تھا ہماری پناہ میںYasmin Husaini Zaidi Nikhat
- راتیں وہ دل فریب بہاریں وہ خواب کیپیری میں یاد آئی ہیں باتیں شباب کیZabt Sitapuri
- کعبہ نظر میں ہے نہ ہے بت خانہ آج کلرہتی ہے گرم محفل رندانہ آج کلZabt Sitapuri
- انسانعظیم الدین احمد
- عندلیبعظیم الدین احمد
- آغوش میں جو جلوہ گر اک نازنیں ہواانگشتری بنا مرا تن وہ نگیں ہواامانت لکھنوی
- صبح وصال زیست کا نقشہ بدل گیامرغ سحر کے بولتے ہی دم نکل گیاامانت لکھنوی