ہوش و خرد کا راہ جنوں میں گزر نہیں
Vahshi Kanpuriہوش و خرد کا راہ جنوں میں گزر نہیں
یاں با خبر وہ ہے جسے اپنی خبر نہیں
کچھ اژدہام جلوہ سے آتا نظر نہیں
وہ پاس ہیں کہ دور یہ تجھ کو خبر نہیں
جوش جنون عشق کی تکمیل کے لئے
کیا کم ہے یہ کہ آہ میں میری اثر نہیں
ادراک کر لیا ہے وہاں عشق نے تجھے
احساس وہم کا بھی جہاں پر گزر نہیں
شبنم کا جذب چاہئے خورشید کا کرم
پرواز عشق منحصر بال و پر نہیں
دنیائے عشق میں دل ناآشنائے غم
ایسی بھی ایک شام ہے جس کی سحر نہیں
رگ رگ دل فسردہ کی مدت سے سرد ہے
اب خاکدان عشق میں کوئی شرر نہیں
وحشیؔ قدم قدم پہ یہاں سجدہ ریز ہو
کوئے حریم یار ہے یہ رہ گزر نہیں