کوئی تو بات ہوگی تمہاری نگاہ میں
Yasmin Husaini Zaidi Nikhatکوئی تو بات ہوگی تمہاری نگاہ میں
دل جو نہ رہ سکا تھا ہماری پناہ میں
تم سے تو یوں ہوا نہیں سرزد کوئی قصور
ہوگی کوئی کمی ہی ہماری نباہ میں
ہم کیوں کریں تمہاری وفا سے کوئی گلہ
جب خود ہی کھو گئے تھے زمانے کی چاہ میں
تم نے دیا تھا ساتھ مگر ہم نہ چل سکے
ہم کو نجات کب ملی کانٹوں سے راہ میں
دریا سے پیاس بجھ نہ سکے گی یہ سوچ کر
لہرا کے چل پڑے تھے سمندر کی چاہ میں