وہ اک نظر جو دل سے جگر تک اتر گئی

Tahavvur Ali Zaidi

وہ اک نظر جو دل سے جگر تک اتر گئی

افسانۂ حیات کی تکمیل کر گئی

کیا پوچھتے ہو مجھ سے جوانی کدھر گئی

بس اتنا یاد ہے ادھر آئی ادھر گئی

ان کی نگاہ لطف یہ احسان کر گئی

دامان دل امید کے پھولوں سے بھر گئی

کیا جانے کوئی کیسی قیامت اٹھائے گی

دل سے نکل کے آہ فلک تک اگر گئی

اپنی جگہ قرینے سے ہر شے ہے بزم میں

وہ کیا گئے کہ رونق دیوار و در گئی

دو دن میں ان کے پھول سے چہرے کو کیا ہوا

دو دن میں ان کی چاند سی صورت اتر گئی

زیدیؔ بہ فیض مرگ یہ ثابت ہوا کہ زیست

موتی کی اک لڑی تھی کہ ٹوٹی بکھر گئی