راتیں وہ دل فریب بہاریں وہ خواب کی

Zabt Sitapuri

راتیں وہ دل فریب بہاریں وہ خواب کی

پیری میں یاد آئی ہیں باتیں شباب کی

رندوں کی بزم اور برائی شراب کی

واعظ نے اپنی آپ ہی مٹی خراب کی

یوں دھجیاں اڑائیں نظر نے نقاب کی

تنویر چھن رہی ہے رخ پر حجاب کی

شبنم دکھا رہی ہے جھلک انقلاب کی

موجیں سنا رہی ہیں کہانی حباب کی

غنچوں کو گدگدا کے جگایا نسیم نے

پھولوں سے کھیلتی ہے کرن آفتاب کی

پیر مغاں کے ظرف پہ حرف آ رہا ہے آج

خالی دکھا رہا ہے صراحی شباب کی

دل کا لگاؤ دل سے نظر کا نظر سے ہے

حاجت سوال کی نہ ضرورت جواب کی

اپنا طریق ضبطؔ زمانے سے ہے جدا

فکر عذاب ہے نہ تمنا ثواب کی