ہر غم پہ آج کل ہے خوشی کا گماں مجھے

Badr Jamali

ہر غم پہ آج کل ہے خوشی کا گماں مجھے

لے آئی یاد یار کہاں سے کہاں مجھے

منظور ذوق دید کا ہو امتحاں مجھے

یہ تاب یہ مجال یہ طاقت کہاں مجھے

یا رب قفس کی خیر کہ دیکھا جو خواب بھی

آیا ہے بجلیوں میں نظر آشیاں مجھے

آزادئ خیال کے وہ رنگ اب کہاں

تھا ابتدا میں کنج قفس آشیاں مجھے

ذوق طلب کا راز یہی زندگی یہی

ہر کارواں ہے گرد پس کارواں مجھے

میں جان رنگ و بو ہوں میں آرائش چمن

تو کیا سمجھ رہا ہے مرے باغباں مجھے

تیور نگاہ ناز کے کچھ دن یہی جو ہیں

یارائے ضبط راز جمالیؔ کہاں مجھے