ہر آہ بے اثر ہی نہیں با اثر بھی ہے
Tahavvur Ali Zaidiہر آہ بے اثر ہی نہیں با اثر بھی ہے
مدت سے جو ادھر تھا وہ عالم ادھر بھی ہے
گلشن کے پاسباں تجھے اتنی خبر بھی ہے
تیرے چمن پہ اور کسی کی نظر بھی ہے
مانا کہ ہر روش ہے بہاروں سے ہمکنار
لیکن چمن میں آج کوئی دیدہ ور بھی ہے
تنہا سہی میں راہ جنوں میں رواں دواں
محسوس ہو رہا ہے کوئی ہم سفر بھی ہے
جب سے ہوئی ہیں ترے کرم کی نوازشیں
دل پاش پاش ہی نہیں زخمی جگر بھی ہے
کہنے سے پہلے اتنا تو لازم ہے سوچنا
جو بات منہ سے نکلے گی وہ بے ضرر بھی ہے
زیدیؔ تو ہو تو جاتا ہے ہر خوش نوا کے ساتھ
کچھ امتیاز راہزن و راہبر بھی ہے