دریا کی بے پناہ روانی سے ڈر لگا
Badr-e-Alam Khan Azmiدریا کی بے پناہ روانی سے ڈر لگا
وہ سگ گزیدہ تھا اسے پانی سے ڈر لگا
چہرہ تھا یا مزار پہ کتبہ لگا ہوا
دیکھا جو آئنہ تو جوانی سے ڈر لگا
سر دے کے بھی ہم اس کی حفاظت نہ کر سکے
بیتے ہوئے دنوں کی نشانی سے ڈر لگا
خود کو سنانے بیٹھے جو ہم اپنی داستاں
اتنی عجیب تھی کہ کہانی سے ڈر لگا
طے کر چکے سخن کی بلندی تو دفعتاً
اقبالؔ و میرؔ و غالبؔ و فانیؔ سے ڈر لگا