کعبہ نظر میں ہے نہ ہے بت خانہ آج کل

Zabt Sitapuri

کعبہ نظر میں ہے نہ ہے بت خانہ آج کل

رہتی ہے گرم محفل رندانہ آج کل

جو پارسا تھا ہے وہی مستانہ آج کل

کیا کھل گیا ہے پھر در مے خانہ آج کل

رکتا نہیں کہیں ترا دیوانہ آج کل

قسمت بنی ہے گردش پیمانہ آج کل

پہلی سی بزم ناز رہی اور نہ سوز و ساز

کیوں ڈھونڈھتا ہے شمع کو پروانہ آج کل

مینا و مے کی خیر ہو جام و سبو کی خیر

پھر ہو رہی ہے لغزش مستانہ آج کل

آئی بہار جوش کا ساماں لئے ہوئے

پھر مستیوں میں ہے ترا دیوانہ آج کل

غربت میں پا رہا ہوں عجب لطف زندگی

اپنا نظر میں ہے نہ ہے بیگانہ آج کل

کیا پوچھتے ہو ضبطؔ کا مسکن بتائیں کیا

ہے اک حریم ناز میں کاشانہ آج کل