آئینہ اک خیال کا ہوں شیشہ گر نہیں
Naeem Sabaآئینہ اک خیال کا ہوں شیشہ گر نہیں
میں وہ مکاں ہوں جس کا کوئی بام و در نہیں
کس سمت جا رہا ہوں یہ مجھ کو خبر نہیں
میں جس کی ہوں تلاش میں یہ وہ سحر نہیں
آیا ہوں اجنبی کی طرح شہر درد میں
جو رہ گزر ملی وہ تری رہ گزر نہیں
اپنی صلیب جاں پہ کھڑا ہوں برہنہ سر
اک جام ہوں سفال کا میں کوزہ گر نہیں
اک دشت بے گماں میں ہے منزل کی جستجو
اک کرب لا زوال ہے جس سے مفر نہیں
تنہائیوں کے زہر سے بے کل ہے زندگی
میرا رفیق شب بھی مرا ہم سفر نہیں
ہر شاخ پر صلیب کا ہوتا ہے اب گماں
بے برگ ہر شجر ہے کہ جس میں ثمر نہیں
اکثر یہ سوچتا ہوں سفر کا نشاں ملے
شاید رہ حیات ابھی مختصر نہیں
پانی کی بوند کو بھی ترستی ہے یہ زمیں
ابر بہار کا بھی یہاں سے گزر نہیں
طائر کی طرح میں ہوں صباؔ اب شکستہ پر
پرواز کی ہوس ہے مگر بال و پر نہیں