رخت سفر کا میں نے ارادہ نہیں کیا

Naeem Saba

رخت سفر کا میں نے ارادہ نہیں کیا

روشن چراغ منزل جادہ نہیں کیا

تجھ سے بچھڑ کے اور مرا دل اداس ہو

ملنے کا اس لئے ابھی وعدہ نہیں کیا

شدت سے تھا ملال شب ہجر کا مگر

شانے پہ تیرے سر کو نہادہ نہیں کیا

دل مطمئن ہے باعث تجدید دوستی

اس کو خفا بھی حد سے زیادہ نہیں کیا

سب کچھ عطا ہوا تری رحمت سے اس لئے

دست طلب کو اور کشادہ نہیں کیا

شاید کہ میری روح کو بالیدگی ملے

خود کو رہین ساغر و بادہ نہیں کیا

شاید مری جبیں کو ملے اذن بندگی

دل کے ورق کو اس لئے سادہ نہیں کیا

مجھ کو نہ تمکنت کا ہو احساس بے زیاں

قامت کو اپنے اور ستارہ نہیں کیا

اپنی تلاش میں ہوں صباؔ اس لئے ابھی

سوئے حرم سفر کا ارادہ نہیں کیا