Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- کبھی تمہارا مرا سامنا نہیں ہوتاوگرنہ شہر میں ہر روز کیا نہیں ہوتاVaibhav Kumar (b. 2000)
- مری میان میں میرا بیان رہتا ہےمرے جگر میں تو ہندوستان رہتا ہےvatsal rohilla (b. 2000)
- نہ جانے نکلے بڑے لوگ ہیں کہاں کی طرفزمیں کی بات ہے اور آنکھ آسماں کی طرفvatsal rohilla (b. 2000)
- تمام رات غموں کو نچوڑا جاتا ہےپرانے جال سے باہر نکلنا مشکل ہےAadarsh Dubey (b. 2001)
- ذرا سی دیر چراغوں کا دل بہل جائےیہ آفتاب کہیں اور جا کے جل جائےAadarsh Dubey (b. 2001)
- کوئی سمجھتا ہے سارے کہاں سمجھتے ہیںتمام لوگ اشارے کہاں سمجھتے ہیںAadarsh Dubey (b. 2001)
- گناہ اپنے گناتا ہوں ڈرنے لگتا ہوںخدا کے سامنے جاتا ہوں ڈرنے لگتا ہوںAadarsh Dubey (b. 2001)
- مجھے یہ ڈر ہے کہ اب بس یہی نہ کر بیٹھوںتری خوشی میں کہیں خودکشی نہ کر بیٹھوںAadarsh Dubey (b. 2001)
- نکل پڑا ہوں میں بے کار راہ الفت میںمجھے پکارتے ہیں خار راہ الفت میںYashvardhan Mishra (b. 2002)
- تماشا خود کو جو ہم سوئے دار کرتے ہیںجو شادماں ہیں انہیں سوگوار کرتے ہیںDard Faiz Khan (b. 2003)
- تمہاری یاد میں آنکھیں بھگو رہا ہوں میںمگر زمانہ سمجھتا ہے رو رہا ہوں میںDard Faiz Khan (b. 2003)
- تمہارے نام کا سکہ اچھال سکتا ہوںتمہیں سلیقے سے میں دیکھ بھال سکتا ہوںAakash Atharv (b. 2003)
- جراحتوں کی مہک ہے فضا کے دامن میںہزار پھول کھلے ہیں صبا کے دامن میںEhsan Nanparwi (b. 2010)
- تمہارے جسم کی خوشبو گلوں سے آتی ہےخبر تمہاری بھی اب دوسروں سے آتی ہےMunawwar Rana
- کبھی خوشی سے خوشی کی طرف نہیں دیکھاتمہارے بعد کسی کی طرف نہیں دیکھاMunawwar Rana
- مسرتوں کے خزانے ہی کم نکلتے ہیںکسی بھی سینے کو کھولو تو غم نکلتے ہیںMunawwar Rana
- یہ بت جو ہم نے دوبارہ بنا کے رکھا ہےاسی نے ہم کو تماشا بنا کے رکھا ہےMunawwar Rana
- تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچوتمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہےMunawwar Rana
- کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میںیہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہےMunawwar Rana
- ابھی جو گردش ایام سے ملا ہوں میںسمجھ رہی تھی کسی کام سے ملا ہوں میںSaleem Kausar
- بدل گیا ہے سبھی کچھ اس ایک ساعت میںذرا سی دیر ہمیں ہو گئی تھی عجلت میںSaleem Kausar
- چراغ یاد کی لو ہم سفر کہاں تک ہےیہ روشنی مری دہلیز پر کہاں تک ہےSaleem Kausar
- کبھی ستارے کبھی کہکشاں بلاتا ہےہمیں وہ بزم میں اپنی کہاں بلاتا ہےSaleem Kausar
- نہ اس طرح کوئی آیا ہے اور نہ آتا ہےمگر وہ ہے کہ مسلسل دیئے جلاتا ہےSaleem Kausar
- وہ جن کے نقش قدم دیکھنے میں آتے ہیںاب ایسے لوگ تو کم دیکھنے میں آتے ہیںSaleem Kausar
- شکست دل میں بھی اک زندگی نظر آئیدیا بجھا تو ہمیں روشنی نظر آئیPirzada Qasim
- کبھی ہوا تو کبھی خاک رہ گزر ہونامرے نصیب میں لکھا ہے در بہ در ہوناPirzada Qasim
- نہ پوچھئے کہ کہا کیا ہے ان کہی کیا ہےعذاب جھیل رہا ہوں سخنوری کیا ہےPirzada Qasim
- وہ ایک خواب جو دیکھا گیا تھا عجلت میںاسی کا کرب سمیٹا ہے آج فرصت میںPirzada Qasim
- ہے جبر وقت کا قصہ عجب سنائے کونمیں یاد اس کو کروں اور یاد آئے کونPirzada Qasim
- یہ حادثہ مجھے حیران کر گیا سر شامجو زخم صبح ملا تھا وہ بھر گیا سر شامPirzada Qasim
- دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہےیہ شہر تو مجھے جلتا دکھائی دیتا ہےAhmad Mushtaq
- کہاں کی گونج دل ناتواں میں رہتی ہےکہ تھرتھری سی عجب جسم و جاں میں رہتی ہےAhmad Mushtaq
- ہمیں سب اہل ہوس ناپسند رکھتے ہیںکہ ہم نوائے محبت بلند رکھتے ہیںAhmad Mushtaq
- یہ ہم غزل میں جو حرف و بیاں بناتے ہیںہوائے غم کے لیے کھڑکیاں بناتے ہیںAhmad Mushtaq
- سمجھ کے ظلم کرو اے بتو خدا بھی ہےتمہارے جور و جفا کی کچھ انتہا بھی ہےجمیلہ خدا بخش
- کہو تو آج دل بے قرار کیسے ہوشب الم کے ستائے نزار کیسے ہوجمیلہ خدا بخش
- ہمارے ساتھ جو یہ کار زندگانی ہےکسی بھٹکتی ہوئی روح کی کہانی ہےBadr Muneer
- زمیں پہ صرف اتارا نہیں منیرؔ اس نےپھر اس کے بعد ہمارا خیال بھی رکھاBadr Muneer
- میں آج تجھ سے ملاقات کرنے آیا ہوںنئی غزل کی شروعات کرنے آیا ہوںBadr Muneer
- بہت سجائے تھے آنکھوں میں خواب میں نے بھیسہے ہیں اس کے لیے یہ عذاب میں نے بھیAitbar Sajid
- طلسم زار شب ماہ میں گزر جائےاب اتنی رات گئے کون اپنے گھر جائےAitbar Sajid
- اداس ہو گئی شبنم جہاں سحر آئیغم فراق سے پھولوں کی آنکھ بھر آئیFaheem Jogapuri
- پڑھی گئی نہ وہ تحریر غم جبینوں سےجو پونچھتی رہی اشکوں کو آستینوں سےFaheem Jogapuri
- خیال و فکر کا صدقہ اتارتے رہئےلہو پلا کے غزل کو سنوارتے رہئےFaheem Jogapuri
- قبول ہو گئی اس کی دعا تو کیا ہوگااگر وہ بن گیا اک دن خدا تو کیا ہوگاFaheem Jogapuri
- نہ پوچھ کیسے گنوائی ہیں انگلیاں ہم نےاک آئنے کی بٹوری ہیں کرچیاں ہم نےFaheem Jogapuri
- تمہاری یاد سے یہ رات کتنی روشن ہےنظر میں اتنے ہیں جگنو کہ ہم گنائیں کیاFaheem Jogapuri
- شب فراق نہ کاٹے کٹے ہے کیا کیجےنہ صبح ہوئے ہے نہ پو پھٹے ہے کیا کیجےWaliullah Muhib
- پئے گناہ ہے تیری پناہ کی تخصیصکہ ہے تجھی پہ ہر اک داد خواہ کی تخصیصمرزا آسمان جاہ انجم