کبھی تمہارا مرا سامنا نہیں ہوتا
Vaibhav Kumar (b. 2000)کبھی تمہارا مرا سامنا نہیں ہوتا
وگرنہ شہر میں ہر روز کیا نہیں ہوتا
بدن سے روح کا ٹانکا ادھڑ رہا ہے مگر
وہ ایک شخص ہی مجھ سے جدا نہیں ہوتا
تمام لوگ ترستے ہیں روشنی کے لیے
مگر نصیب میں سب کے دیا نہیں ہوتا
کئی کے ہاتھ جلانے میں بھی جلے ہوں گے
ہر ایک آگ بجھا کر جلا نہیں ہوتا
فقیر پیر ولی سادھو سنت سا انسان
عظیم ہوتا ہے لیکن خدا نہیں ہوتا