شب فراق نہ کاٹے کٹے ہے کیا کیجے

Waliullah Muhib

شب فراق نہ کاٹے کٹے ہے کیا کیجے

نہ صبح ہوئے ہے نہ پو پھٹے ہے کیا کیجے

صفا تھا عکس رخ اس کے سے دل کا آئینہ

اب اس پہ زنگ کدورت اٹے ہے کیا کیجے

رحیم و رام کی سمرن ہے شیخ و ہندو کو

دل اس کے نام کی رٹنا رٹے ہے کیا کیجے

بسان ہر مژہ پر پارۂ دل مجروح

ہر ایک پل نہ شمردہ بٹے ہے کیا کیجے

پئے تھا رات تو کل غیر پاس یار شراب

اور آج قسمیں ہی کھا کھا نٹے ہے کیا کیجے

یہ جوں جوں وعدے کے دن رات پڑتے جاتے ہیں

گھڑی گھڑی میں مرا جی کٹے ہے کیا کیجے

رقیب جم کے یہ بیٹھا کہ ہم اٹھے ناچار

یہ پتھر اب نہ ہٹائے ہٹے ہے کیا کیجے

جگر کے ٹکڑوں سے جب تک کہ گود بھر لے آئے

یہ طفل اشک تو رو رو ہٹے ہے کیا کیجے

یہ دخت رز کوئی ایسے لٹی ملے ہے محبؔ

دل اس کی تاک میں اپنا لٹے ہے کیا کیجے